منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعرات 27 جمادى الأولى 1433هـ - 19 اپریل 2012م KSA 08:41 - GMT 05:41

سلفیوں کے ساتھ ظلم ہوا: ڈاکٹر الھلباوی

"اخوان المسلمون کو صدارتی انتخابات نہ لڑنے کے وعدے پر عمل کرنا چاہیے تھا"

جمعرات 27 جمادى الأولى 1433هـ - 19 اپریل 2012م
قاہرہ ۔ ولید عبدالرحمان

اخوان المسلمون کے مستعفی مرکزی رہ نما ڈاکٹر کمال الھلباوی نے جماعت کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اخوان المسلمون کو صدارتی انتخابات نہ لڑنے کے اپنے وعدے پر عمل کرنا چاہیے تھا۔

ان خیالات کا اظہار اخوان المسلمون کے رہنما نے"العربیہ" ٹی وی کے فلیگ شپ پروگرام "اسٹوڈیو قاہرہ" میں صحافی محمود الورواری کے ساتھ خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

سلفی جماعت "النور" کے صدارتی امیدوار حازم ابو اسماعیل کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے اور سلفیوں کے اس پر احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے ڈاکٹر الھلباوی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے سلفیوں پر ظلم کیا ہے۔ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے شعور نے انہیں سڑکوں پر احتجاج پر مجبور کیا ہے۔

سلفی امیدوار حازم ابو اسماعیل کی والدہ کے امریکی شہری ہونے کے تنازع کے بارے میں انہوں نے کہا کہ" یہ بات میری سمجھ سے بالا تر ہے کہ ابو اسماعیل کو اپنی والدہ کی امریکی شہریت کے بارے میں علم کیوں نہیں تھا؟ اگر انہیں علم تھا انہیں ناک کی سرجری کرا کر جھوٹ بولنے والے سلفی رہنما کی طرح جھوٹ نہیں بولنا چاہیے تھا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے اخوان المسلمون کے امیدوار خیرت الشاطر کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے پر جماعت کے کارکنوں کے کمیشن کے دفتر کے باہر دھرنے کی مخالفت کرتے ہوئے الھلباوی نے کہا کہ اخوان کی قیادت نے پہلے صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جماعت کو اپنے اس دعوے اور اعلان پر قائم رہنا چاہیے تھا۔ انہوں نے جماعت کے شعبہ دعوت ارشاد کے انتخابات کی شفافیت پر بھی اعتراض کیا۔ سابق رہ نما کا کہنا تھا کہ اخوان المسلمون کی قیادت پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کی شفافیت کا مطالبہ کرنے سے قبل تحریر چوک میں دعوت وارشاد کے شفاف انتخابات کرانے چاہئیں۔

ڈاکٹر کمال الھلباوی کا کہنا تھا کہ اخوان المسلمون مابعد انقلاب جس پوزیشن پر کھڑی ہے مجھے اس پر گہرا دکھ ہے کیونکہ جماعت کے اسپیکر پارلیمنٹ ڈاکٹر سعد الکتاتنی خود کو حسنی مبارک کے دور کے اسپیکر فتحی سرور ثابت کر رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر کو تمام جماعتوں کے ساتھ توازن کی پالیسی پر چلنا ہوتا ہے لیکن الکتاتنی اس سے محروم ہیں۔

سلفیوں کو دیوار سے لگانے کی سازش ناکام

پروگرام میں سلفی مسلک کے سابق صدراتی امیدوار حازم ابو اسماعیل کی انتخابی مہم کے نگران حمدی الصباح نے کہا کہ ماضی میں استبدادی دور میں سلفی رہ نماؤں نے جیلوں میں طویل ترین سزائیں اور ظلم برداشت کیے۔ آج اگر انہیں اپنے ہونے والے مظالم کو بے نقاب کرنے کا موقع ملا تو انہیں دیوار سے لگانے کی ایک مرتبہ پھر کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ اب سلفیوں کو خود پر ہونے والے مظالم کے اظہار اور شعور کی بیداری سے روکا نہیں جا سکتا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فوج کے ذریعے عوام کو دبانے کا دور گذر گیا۔ وہ وقت دور نہیں جب ہم لاکھوں لوگوں کو لے کر سڑکوں پر نکلیں گے اور اقتدار عوامی حکومت کو منتقل کر کے دم لیں گے۔ حمدی الصباح کا کہنا تھا کہ مصری عوام اپنے جمہوری حقوق کے حصول کی طاقت رکھتے ہیں۔ عوام نے اٹھارہ دن میں حسنی مبارک کو صدارتی محلات سے نکال باہر کیا تھا۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو بھی وہ جلد بیرکوں میں لے جائیں گے۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے تمام سیاسی قوتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اپنے ایجنڈے اٹھائے پھرنے کے بجائے انقلاب کی روح کے مطابق ایک مشترکہ ایجنڈا تیار کریں تاکہ فوج اور غیر جمہوری قوتوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حکومتی معاملات سے نکال باہر کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ سلفی صدارتی امیدوار حازم محمود صلاح ابو اسماعیل کو انتخابی دوڑ سے باہر کرنے کے بارے میں الیکشن کمیشن نے پہلے ہی ذہن تیار کر لیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے جو نام نہاد دستاویزات بتائی ہیں وہ جماعت اور کسی دوسری سلفی شخصیت کو نہیں دکھائے گئے۔