عراق کے مختلف شہروں اور قصبوں میں پے درپے بیس سے زیادہ بم دھماکے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں چھتیس افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔
دارالحکومت بغداد کے شیعہ آبادی والے علاقوں میں یکے بعد دیگرے تین کار بم دھماکے اور دوسڑک کے کنارے نصب بموں کے دھماکے ہوئے اورایک خودکش حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں پندرہ افراد ہلاک اور اکسٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔
بغداد کے علاقوں امل ،فلسطین اور ظفرانیہ میں بھی الگ الگ بم دھماکے ہوئے۔عراق بھر میں بم دھماکوں کے علاوہ فائرنگ کے واقعات بھی پیش آئے ہیں اور بعقوبہ سے دس کلومیٹر مغرب میں واقع قصبے حدید میں ایک کار میں سوار مسلح افراد نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا۔
بغداد کے علاقے کاظمیہ میں سب سے بڑا حملہ کیا گیا جہاں ایک کاربم دھماکے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور چوبیس زخمی ہوگئے۔حیفا کے علاقے میں عراق کے وزیرصحت کے موٹر کیڈ کو کار بم سے نشانہ بنایا گیا جس میں دوشہری ہلاک اور وزیر کے چار محافظ زخمی ہوگئے۔وزیر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے پانچ محافظ زخمی ہوئے ہیں۔
شمالی شہر کرکوک میں پولیس اور فوج کی گشتی پارٹیوں پر دوکاربموں سے حملہ کیا گیا اور وہاں سڑک کے کنارے نصب تین بم پھٹے ہیں ۔ان واقعات میں آٹھ افراد ہلاک اور چھبیس زخمی ہوگئے ہیں۔
سامراء میں دوبم دھماکوں میں تین افراد مارے گئے۔ایک بم دھماکا تاجی میں ہوا ہے اور بعقوبہ میں ایک حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ذرائع کے مطابق حملہ آور بظاہر سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔
شمالی شہر موصل میں بھی ایک بم دھماکا ہوا ہے اور سنی آبادی کے اکثریت والے صوبہ الانبار کے دارالحکومت رمادی میں پولیس پر دوکار بم حملے کیے گئے جن میں چار افراد ہلاک اور دس زخمی ہوگئے۔فلوجہ میں سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں چارافراد زخمی ہوئے ہیں۔