شام کی بعض خفیہ دستاویزات العربیہ کے ہاتھ لگی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر بشارالاسد کی حکومت نے ملک میں گذشتہ سال مارچ سے جاری بدامنی اور احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے کے لیے ایک خفیہ کرائس سیل قائم کر رکھا تھا۔ ان دستاویزات سے شامی حکومت کی خفیہ کارروائیوں کا انکشاف بھی ہوا ہے۔
ان دستاویزات کے مطابق گذشتہ سال صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی تحریک کے آغاز کے ایک ماہ بعد اپریل میں ''کرائسس سیل'' قائم کیا گیا تھا جو ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں اور دوسرے واقعات کی مانیٹرنگ کا ذمے دار تھا۔اس سیل کے قیام کے بعد صدر بشارالاسد نے عوامی احتجاجی تحریک پر قابو پانے کے لیے فوجی حل کا فیصلہ کیا تھا۔
کرائسس سیل میں انٹیلی جنس حکام ،حکومتی اور سکیورٹی فورسز کی شخصیات شامل تھیں۔یہ سیل ملک بھر میں رونما ہونے والے واقعات کا ریکارڈ رکھتا تھا اور اس کی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر صدر بشارالاسد کو براہ راست پیش کی جاتی تھی۔
اس سیل کا ایک رکن کسی سرکاری جماعت کا حصہ نہیں تھا۔وہ سیاسیات کا ایک گریجوایٹ تھا اوراس نے سیل میں شامل بعض''اچھے لوگوں'' کے بارے میں جاننے کا اعتراف کیا ہے۔عبدالمجید برکات نامی اس رکن نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کرائسس سیل کی سرکاری دستاویزات کا انکشاف کیا ہے۔ان میں ملک بھر میں ہلاکتوں سے متعلق سکیورٹی فورسز کی رپورٹس، شامی شہریوں سے ناروا سلوک سے متعلق حکام کے اعترافی بیانات اور شامی حزب اختلاف سے متعلق بیانات شامل ہیں۔
عبدالمجید برکات نے العربیہ ٹی وی کے دوحصوں پر مشتمل ایک خصوصی پروگرام میں خود کو متعارف کرایا ہے۔اس پروگرام میں خفیہ دستاویزات اور ان کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ سیل کے ارکان اور ان کے ملک میں جاری بحران کے حوالے سے نقطہ نظر اور ان کے درمیان بعض اختلافی امور پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
اس پروگرام میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عبدالمجید برکات نے ان اہم رپورٹس کو منظرعام پر لانے کا کیوں فیصلہ کیا وہ اس کے بعد شام سے راہ فرار کیوں اختیار کرگئے اور انھوں نے شامی حکومت کے خفیہ گوشوں اور خفیہ دستاویزات کو دنیا کے سامنے لانے کا خطرہ کیوں مول لیا ہے؟