شام اور اقوام متحدہ نے جمعرات کو جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے مانیٹرنگ مشن کی تعیناتی سے متعلق شرائط اور قواعد وضوابط پر مبنی سمجھوتے پر دستخط کردیے ہیں۔
اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی کوفی عنان نے بتایا ہے کہ شامی حکومت اور اقوام متحدہ کے درمیان مزید مبصرین کی تعیناتی کے بارے میں شرائط پر اتفاق رائے طے پاگیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے گذشتہ روزسلامتی کونسل میں ایک بیان میں کہا تھا کہ شام میں تین ماہ کے عرصے کے لیے تین سو مبصرین کو بھیجا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شامی حکومت کی جانب سے کوفی عنان کے چھے نکاتی امن منصوبے پر عمل درآمد میں ناکامی کے باوجود بحران کے حل کے لیے پیش رفت کا امکان ہے۔
بین کی مون نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کردہ ایک رپورٹ میں کہا کہ مجوزہ مشن فریقین کی جانب سے تشدد کی تمام شکلوں کے خاتمے اور جنگ بندی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ شام کو جنگ بندی سمجھوتے پر عمل درآمد کے لیے ایک واضح پیغام دینے کی ضرورت ہے۔انھوں نے کوفی عنان کے چھے نکاتی امن منصوبے پر شامی حکومت اور باغیوں کی جانب سے عمل درآمد کی غیر جانبدارانہ مانیٹرنگ کی ضرورت پر بھی زوردیا۔
انھوں نے خبردار کیاکہ شام میں پرتشدد واقعات اور ہلاکتوں میں اضافے کی اطلاعات منظرعام پر آرہی ہیں اور شامی حکومت اور باغیوں کو جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کرنا چاہیے اور ہرطرح کے تشدد سے گریز کرنا چاہیے۔
بین کی مون نے بتایا کہ شام میں مبصرین کی ہراول ٹیم نے جنوبی شہر درعا کا دورہ کیا ہے اور اسے آزادانہ نقل وحرکت کی آزادی حاصل تھی جبکہ ٹیم کی وسطی شہر حمص میں جانے کی درخواست مسترد کردی گئی ہے اور شامی حکام نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر مبصرین کو وہاں جانے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔
ادھر بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لیو وائمین نے جمعرات کو اپنی روزانہ کی بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ان کا ملک شام میں گذشتہ ایک ہفتے سے جاری جنگ بندی کی نگرانی کے لیے اپنے مبصرین کو بھیجنے پر غور کررہا ہے۔
شام میں گذشتہ ایک ہفتے سے کوفی عنان کے امن منصوبے پر عمل درآمد کیا جارہا ہے لیکن اس کے باوجود مختلف شہروں میں تشدد اور ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اوراقوام متحدہ کے مبصرین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انھیں جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک کٹھن مرحلہ درپیش ہے۔مراکش کے کرنل احمد ہمیش کی قیادت میں اقوام متحدہ کے چھے مبصرین پر مشتمل ہراول ٹیم گذشتہ اختتام ہفتہ پر شام پہنچی تھی اور یہ ٹیم ملک کے شورش زدہ علاقوں میں عالمی ادارے کے مبصرین کی تعیناتی کا جائزہ لے رہی ہے۔