مصر کی حکمران فوجی کونسل نے سابق صدر حسنی مبارک کے دور سے تعلق رکھنے والے صدارتی امیدواروں کی اہلیت سے متعلق پارلیمان کے منظور کردہ قانون کو جائزے کے لیے ملک کی آئینی عدالت کو بھیج دیا ہے اور اس سے کہا ہے کہ وہ ان امیدواروں کے بارے میں یہ فیصلہ کرے کہ وہ آیندہ صدارتی انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں یا نہیں۔
اسلام پسندوں کی بالادستی والی پارلیمان نے گذشتہ ہفتے ایک قانون کی منظوری دی تھی جس کے تحت سابق دور سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ عہدے داروں پر صدارتی انتخاب میں حصہ لینے پر پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔حکمران مسلح افواج کی سپریم کونسل پارلیمان کے منظور کردہ اس قانون کی توثیق کردیتی ہے تو حسنی مبارک دور کے وزیراعظم احمد شفیق نااہل قرار پائیں گے۔
مصر کی سپریم آئینی عدالت کے بارے میں یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ آیندہ پندرہ روز میں اس قانون کے بارے میں اپنا فیصلہ جاری کرے گی۔حکمران سپریم کونسل کے مقرر کردہ ایک وزیر نے گذشتہ ہفتے اس قانون کو ''انحراف'' قراردیا تھا جس میں ان کے بہ قول ایک یا دوافراد کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس قانون کے تحت حسنی مبارک کے اقتدار کے آخری عشرے کے دوران اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیات کو نااہل قراردیا گیا ہے اور اس میں وزیر کے عہدہ کو شامل نہیں کیا گیا جس کا یہ مطلب ہے کہ عرب لیگ کے سابق سیکرٹری جنرل عمروموسیٰ اس قانون کی فوجی کونسل کی جانب سے منظوری کے بعد نااہل قرار نہیں پائیں گے۔وہ حسنی مبارک کے دور میں وزیرخارجہ رہے تھے۔
درایں اثناء مصر کے جمہوریت نواز کارکنان نے سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت میں خدمات انجام دینے والے سینئر عہدے داروں اور سیاست دانوں کے خلاف جمعہ کو بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی ہے۔
الیکشن کمیشن نے گذشتہ ہفتے کے روز تین سرکردہ صدارتی امیدواروں سابق انٹیلی جنس چیف عمر سلیمان ،اخوان المسلمون کے امیدوار خیرت الشاطر اور سلفی سیاست دان حازم ابو اسماعیل کو فنی بنیادوں پر انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔الیکشن کمیشن نے رجسٹرڈ تئیس صدارتی امیدواروں میں سے دس کو نااہل قرار دیا تھا اور ان کی فیصلے پر نظرثانی کی اپیلیں مسترد کردی تھیں۔
خیرت الشاطر نے فوجی حکمرانوں پر الزام عاید کیا کہ وہ اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ وہ ملک میں احتجاجی مظاہرے کریں گے۔انھوں نے اپنی نااہلی کی توثیق کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح مسلح افواج کی سپریم کونسل ملک کو چلا رہی ہے،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ملک میں جمہوری عمل کو الٹ پلٹ کرنا چاہتی ہے اور وہ عوام کو اپنے صدر کو جمہوری طور پر منتخب کرنے سے روکنے کی کوشش کررہی ہے۔
انھوں نے مصریوں پر زوردیا کہ وہ اپنے انقلاب کا تحفظ کریں ۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اس وقت ملک میں انتخابی فراڈ اور ووٹ خریدنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جارہا ہے۔انھوں نے مبارک دور کی باقیات کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
دوسری جانب مصر کی حالیہ تاریخ میں نمودار ہونے والی نئی سیاسی طاقت سلفیوں نے بھی حکمران فوجی کونسل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔سلفی امیدوار حازم ابو اسماعیل کو ان کی والدہ کی غیر ملکی شہریت ثابت ہونے پر نااہل قراردیا گیا ہے۔مصری قانون کے تحت صدارتی امیدوار،اس کے والدین اور اس کی خاتون خانہ کا مصر کا شہری ہونا ضروری ہے۔حازم ابو اسماعیل کا کہنا ہے کہ انھیں انتخابی دوڑ سے باہر کرنے کے لیے ان کی والدہ کی امریکی شہریت کے حوالے سے من گھڑت کہانی تراشی گئی ہے اور صدارتی کمیٹی نے تمام قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔
صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی اہلیت کا جائزہ لینے والی کمیٹی نے لبرل صدارتی امیدوار ایمن نور کی نااہلی کا فیصلہ بھی برقرار رکھا ہے۔ایمن نور کو ان کے مجرمانہ ریکارڈ کے پیش نظر صدارتی دوڑ سے باہر کیا گیا ہے۔انھیں ماضی میں ان کے خلاف قائم کیے گئے مقدمات میں قصور وار قرار دے کر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔حالانکہ وہ واحد شخص تھے جنھوں نے معزول صدر حسنی مبارک کو ان کے اقتدار کے عروج کے دنوں میں چیلنج کیا تھا۔
واضح رہے کہ صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں تئیس اور چوبیس مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے اور اگر کوئی بھی امیدوار کامیابی کے لیے درکار پچاس فی صد سے زیادہ ووٹ حاصل نہ کرسکا تو پھر سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو امیدواروں کے درمیان دوبارہ جون میں مقابلہ ہوگا اور ان میں سے سب سے زیادہ ووٹ لینے والا امیدوار کامیاب قرار پائے گا۔اس کے بعد یکم جولائی کو حکمران فوجی کونسل منتخب صدر کو اقتدار سونپ دے گی۔اس طرح انتقال اقتدار کا تمام عمل پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔