مصر میں آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کے قریب آتے ہی ملک میں سیاسی جوش و خروش میں اضافہ ہو گیا ہے اور ہر امیدوار اپنا ووٹ بینک بڑھانے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہا ہے۔ سیاست دانوں کی انتخابی مہمات کے جلو میں "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے زیر اہتمام مقبول صدارتی امیدواروں کے بارے میں ایک عوامی سروے کیا گیا ہے۔
جمعرات کی شام جاری کیے گئے اس سروے کے نتائج کے مطابق اخوان المسلمون کے ایک سابق رہ نما ڈاکٹر عبدالمنعم ابو الفتوح 32 فی صد رائے دہندگان کی حمایت کے ساتھ پہلے نمبر پر رہے، حمد ین الصباحی 26 فی صد حمایت کے ساتھ دوسرے جبکہ عرب لیگ کے سابق سیکرٹری جنرل عمرو موسیٰ 22 فی صد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔
سروے کے آغاز میں حمد ین الصباحی مقابلے میں بہت پیچھے تھے تاہم ان کی مقبولیت کا گراف تیزی کے ساتھ بلند ا اور وہ پہلے نمبر پر آنے والے امیدوار ڈاکٹر ابوالفتوح کے مدمقابل جا کھڑے ہوئے۔
سروے میں مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے صدارتی امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی کو توقع سے کم شہریوں کی حمایت ملی اور وہ نو فی صد کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں۔ دیگر امیدواروں میں احمد شفیق کو چھے فیصد، ڈاکٹر سلیم العواء کو دو جبکہ عبداللہ الاشعل اور حسام خیراللہ کو صرف ایک فی صد رائے دہندگان کی حمایت حاصل ہو سکی۔ فہرست میں ابو العز الحریری اور ھشام البسطیویسی دو ایسے امیدوار ہیں جن کی حمایت صفر رہی۔
خیال رہے کہ 23 اور 24 مئی کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں مجموعی طور پر 13 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔ الیکشن کمیشن نے دس سرکردہ امیدواروں کو صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی شرائط پر پورا نہ اترنے کے باعث انتخابی دوڑ سے باہر کر دیا ہے۔ ان میں سابق نائب صدر عمر سلیمان، اخوان المسلمون کے رہنما خیرت الشاطر، سلفی سیاست دان حازم ابو اسماعیل اور "الغد انقلاب پارٹی" کے ڈاکٹر ایمن النور شامل ہیں۔