منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعہ 28 جمادى الأولى 1433هـ - 20 اپریل 2012م KSA 08:50 - GMT 05:50

دورہ نجی تھا، اسرائیل سے تعلقات کا اب بھی مخالف ہوں: مفتی جمعہ

مصر: جامعہ الازھر کی مفتی اعظم سے دورہ مسجدا قصیٰ کی جواب طلبی

جمعہ 28 جمادى الأولى 1433هـ - 20 اپریل 2012م
قاہرہ ۔ امیرہ فودہ

مصر کے مفتی اعظم الشیخ علی جمعہ کے دو روز پیشتر مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کے دورے پر مصری علماء نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین میں مصر کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ الازھر بھی پیش پیش ہے۔

جامعہ الازھر کے زیر اہتمام اسلامک ریسرچ اکیڈیمی کے ایک ہنگامی اجلاس میں مفتی علی جمعہ کے دورہ مسجد اقصیٰ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مصری علماء کے مجموعی موقف کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ جامعہ الازھر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب کی زیر صدارت علماء کے اجلاس کے دوران کہا گیا کہ شیخ جمعہ نے اسرائیلی ویزے پر مسجد اقصیٰ کا دورہ کر کے القدس اور قبلہ اول پر صہیونی ریاست کا قبضہ آئینی تسلیم کرنے کی کوشش کی۔

دوسری جانب شیخ علی جمعہ نے علماء کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مسجد اقصیٰ کا دورہ نجی نوعیت کا تھا۔ اسرائیل سے تعلقات کے قیام کے بارے میں ان کا اب بھی وہی موقف ہے جو دیگر علماء کا ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق جامعہ الازھر کے علماء کے ہنگامی اجلاس کے اختتام پر ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ مصر کی دینی قوتوں کی جانب سے مسجد اقصیٰ، بیت المقدس اور فلسطین کے دیگر مقبوضہ مقدسات کی زیارت کے بارے میں جو پالیسی بنائی گئی تھی تمام رکن علماء کو اس پر عمل کرنا چاہیے۔

شیخ علی جمعہ کا ردعمل

بعد ازاں اجلاس میں شیخ علی جمعہ بھی شریک ہوئے اور اسرائیلی ویزے پر مسجد اقصیٰ کے دورے کے بارے میں وضاحت بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کا ان کا یہ دورہ نجی نوعیت کا تھا کوئی سرکاری دورہ نہیں تھا۔ ان کی مسجد اقصیٰ میں آمد کو حکومت کی پالیسی نہ خیال کیا جائے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی وہ اسرائیلی ویزے پر مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس نہیں گئے بلکہ اردن کی جانب سے انہیں وہاں ذاتی نوعیت کے علمی اور دینی امور نمٹانے کے لیے خصوصی اجازت نامہ دلوایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ عرب علاقوں کا ان کا دورہ مکمل طور پر اردنی حکومت کی نگرانی میں ہوا اور مسجد اقصیٰ جاتے ہوئے انہیں راستے میں کوئی اسرائیلی نہیں ملا اور نہ ہی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی پولیس کی جانب سے انہیں کوئی پروٹوکول یا سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے عدم قیام کے بارے میں شیخ علی جمعہ نے کہا کہ ان کی پالیسی میں تبدیلی نہیں آئی بلکہ وہ اب بھی مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کے بارے میں مصری علماء کے وضع کردہ خطوط پر عمل پیرا ہیں۔ البتہ ان کا دورہ مسجد اقصیٰ نجی تھا اور وہاں نماز ادا کر کے انہیں خوشی ہوئی۔

ان کے اس بیان کے بعد اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ شیخ علی جمعہ کے دورہ مسجد اقصیٰ کو جامعہ الازھر کا نمائندہ دورہ نہ سمجھا جائے۔ اعلامیے میں فلسطینی شہریوں کے حق خود ارادیت سمیت تمام مسلمہ حقوق کی حمایت کی گئی اور عالمی برادری سےمطالبہ کیا گیا کہ وہ بیت المقدس میں یہودیت کےفروغ کے سلسلے میں جاری اسرائیلی سرگرمیوں پر پابندی لگوائے۔

خیال رہے کہ مفتی دیار مصر شیخ علی جمعہ نے بدھ کے روز اردن کی ایک اہم شخصیت کے ہمراہ مسجد اقصیٰ کا دورہ کیا تھا، جس پرفلسطین اور مصر سمیت کئی دوسرے ممالک کے دینی حلقوں کی جانب سے بھی سخت برہمی کا اظہار کیا گیا تھا۔