شامی صدر بشار الاسد کے زیر کمان حزب اختلاف کے احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے قائم کرائسس سیل کا انکشاف کرنے والے نوجوان عبدالمجید برکات کا کہنا ہے کہ شامی حکومت بحران کا شکار ہے اور وہ ناتجربہ کار لوگوں پر مشتمل ہے۔
عبدالمجید برکات نے العربیہ ٹی وی کے دوحصوں پر مشتمل ایک خصوصی پروگرام میں شامی حکومت کے اندرونی حلقوں کے بارے میں انکشافات کیے ہیں۔اس پروگرام میں خفیہ دستاویزات اور ان کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ سیل کے ارکان اور ان کے ملک میں جاری بحران کے حوالے سے نقطہ نظر اور ان کے درمیان بعض اختلافی امور پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
ان خفیہ دستاویزات کے مطابق گذشتہ سال صدر بشار الاسد کے خلاف عوامی تحریک کے آغاز کے ایک ماہ بعد اپریل میں ''کرائسس سیل'' قائم کیا گیا تھا جو ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں اور دوسرے واقعات کی مانیٹرنگ کا ذمے دار تھا۔اس سیل کے قیام کے بعد صدر بشار الاسد نے اپنے خلاف عوامی احتجاجی تحریک پر قابو پانے کے لیے فوجی حل کا فیصلہ کیا تھا۔
کرائسس سیل میں انٹیلی جنس حکام ،حکومتی اور سکیورٹی فورسز کی شخصیات شامل تھیں۔یہ سیل ملک بھر میں رونما ہونے والے واقعات کا ریکارڈ رکھتا تھا اور یہ فیصلہ کرتا تھا کہ کون ''شہید'' ہوا ہے اور کون ''ہلاک'' ہوا ہے۔ اس کی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر صدر بشار الاسد کو براہ راست پیش کی جاتی تھی۔
عبدالمجید برکات حکمران جماعت بعث پارٹی یا کسی سرکاری ادارے کا حصہ نہیں تھا۔ وہ سیاسیات کا ایک گریجوایٹ تھا اور بحران کے انتظام کا تجربہ رکھتا تھا۔اس نے سیل میں شامل بعض''اچھے لوگوں'' کے بارے میں جاننے کا اعتراف کیا ہے۔انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کرائسس سیل کی خفیہ دستاویزات کا انکشاف کیا ہے۔ان میں ملک بھر میں ہلاکتوں سے متعلق سکیورٹی فورسز کی رپورٹس، شامی شہریوں سے ناروا سلوک سے متعلق حکام کے اعترافی بیانات اور شامی حزب اختلاف سے متعلق بیانات شامل ہیں۔
برکات کرائسس سیل کے سیکرٹری کے ساتھ کام کر رہے تھے اور انھوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ وہ کم عمری کے باوجود شامی حکومت کے اس اہم سیل تک رسائی حاصل کرنے میں کیسے کامیاب ہو گئے تھے۔
برکات نے العربیہ کو بتایا کہ صدر بشار الاسد کی قیادت میں کرائسس سیل میں ان کے بھائی ماہرالاسد سمیت نو جرنیل شامل تھے۔ صدر کو شہروں میں احتجاجی مظاہروں اور ہنگاموں کی صورت حال اور ان سے نمٹنے کے لیے حکومت کے اقدامات کے بارے میں روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ کیا جاتا تھا۔
ان کے بہ قول ملک میں بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر صدر بشار الاسد آزادانہ گھوم پھر نہیں سکتے تھے اور نہ وہ سیل کے اجلاسوں میں شریک ہو سکتے تھے بلکہ سیل کے ارکان کا صدارتی محل میں اجلاس ہوتا تھا اور شامی جرنیل ہفتے میں دوسے تین بار صدر اسد سے ملاقات کیا کرتے تھے۔
کرائسس سیل کے سربراہ صدر بشار الاسد خود ہیں۔ اس میں دوسری نمایاں شخصیت ان کے چھوٹے بھائی ماہر الاسد ہیں جو شامی فوج کی فورتھ آرمرڈ ڈویژن اور صدارتی گارڈ کے کمانڈر ہیں۔ وہ شام کی بعث پارٹی کی قیادت کونسل کے بھی رکن ہیں۔
ان کے علاوہ کرائسس سیل میں بعث پارٹی کے علاقائی معاون سیکرٹری محمد سعید بخیتان شامل تھے لیکن چار ماہ کے بعد ان کی جگہ شام کے سابق وزیر دفاع حسن ترکمانی کو اس میں شامل کر لیا گیا۔
سیل کے دوسرے ارکان میں بشار الاسد کی بہن بشریٰ کے خاوند آصف شوکت نمایاں ہیں جو سن دو ہزار نو سے دو ہزار گیارہ تک فوج کے نائب سربراہ رہے تھے اور اب وہ ملک کے نائب وزیردفاع کے منصب پر فائز ہیں۔ ان کے علاوہ وزیر دفاع داؤد راجحہ، وزیر داخلہ محمد الشاعر،نیشنل سکیورٹی کے سربراہ اور صدر بشارالاسد کے مشیر میجر جنرل ہشام الاختیار، شامی فضائیہ کی انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل جمیل حسن، ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ عبدالفتاح قدسیہ ،سول انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ دیب زیتون اور شامی جنرل انٹیلی جنس کے سربراہ علی مملوک شامل تھے۔
کرائسس سیل نے ڈیٹا کی تحقیق اور مواد جمع کرنے کے لیے ایک سیکرٹری ڈویژن مقرر کیا تھا۔ اس کے چیف سیکرٹری وزیر دفاع کے سابق مشیر صلاح الدین النعیمی تھے۔ شامی بحریہ کے افسر مصطفیٰ الشرح بھی اس یونٹ میں شامل تھے اور سب سے آخر میں عبدالمجید برکات تھے۔
برکات کا کہنا تھا کہ ''سیل کے ارکان اپنی تحریروں اور دستاویزات میں ایسے الفاظ استعمال کیا کرتے تھے جن کو وہ سب سمجھتے تھے اور جن پر ان کا اتفاق ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر جب ان کا کوئی فوجی یا ایجنٹ مارا جاتا تو اس کے لیے ''شہید'' کا لفظ استعمال کرتے تھے لیکن جب کوئی عام شہری تشدد کی کارروائی میں مارا جاتا تو اس کے لیے ''ہلاک'' کا لفظ استعمال کرتے تھے۔
نوجوان برکات کرائسس سیل میں دس ماہ تک خدمات انجام دینے کے بعد اپنی جان بچانے کے لیے فروری میں بیرون ملک بھاگ گئے تھے لیکن ان کا العربیہ کے ساتھ انٹرویو میں کہنا تھا کہ شامی صدر سے بحران سے نمٹنے سے متعلق خفیہ دستاویزات کو طشت ازبام کر کے انھوں نے اپنے حصے کا کام کر دیا ہے۔