مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہزاروں افراد نے سرکردہ صدارتی امیدواروں کی نااہلی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور حکمران فوجی کونسل سے اس سال کے وسط تک اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔
میدان التحریر میں گذشتہ چند ماہ کے بعد یہ سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ تھا جس میں اسلام پسندوں اور لبرلز دونوں کے حامیوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین حکمران فوجی کونسل اور اس کے سربراہ فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی کے خلاف سخت نعرے بازی کر رہے تھے۔ مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ اور دوسرے چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں بھی ہزاروں افراد نے نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔
میدان التحریر میں نماز جمعہ کے لیے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین مظہر شاہین نے کہا کہ ''آج ہم یہاں اس لیے جمع ہوئے ہیں کہ ایک دن کی تاخیر کے بغیر صدارتی انتخابات کرائے جائیں اور ہم ملک وقوم کے مفاد میں ایک دوسرے کی لغرشوں کو معاف کر دیں''۔ واضح رہے کہ علامہ مظہر شاہین تحریر چوک میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران بھی نماز جمعہ کی امامت اور خطابت کرتے رہے ہیں۔
تحریر چوک میں ملک کی سب سے بڑی جماعت اخوان المسلمون اور سلفی تحریک کے حامیوں کی بڑی تعداد احتجاج کے لیے موجود تھی۔اخوان المسلمون کے حامی اپنے صدارتی امیدوار خیرت الشاطر اور سلفی اپنے صدارتی امیدوار حازم ابو اسماعیل کی نااہلی کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔نااہل قرار پائے سلفی صدارتی امیدوار کے حامیوں نے ان کا ایک طویل بینر لیے تحریر چوک کی جانب مارچ کیا اور انھیں بطور صدارتی امیدوار بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
مصر کے الیکشن کمیشن نے گذشتہ ہفتے کے روز تین سرکردہ صدارتی امیدواروں سابق انٹیلی جنس چیف عمر سلیمان ،اخوان المسلمون کے امیدوار خیرت الشاطر اور سلفی سیاست دان حازم ابو اسماعیل کو فنی بنیادوں پر انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔الیکشن کمیشن نے رجسٹرڈ تئیس صدارتی امیدواروں میں سے دس کو نااہل قرار دیا تھا اور ان کی فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیلیں بھی مسترد کردی تھیں۔
خیرت الشاطر نے اپنی نااہلی پر احتجاج کرتے ہوئے فوجی حکمرانوں پر الزام عاید کیا کہ وہ اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جس طرح مسلح افواج کی سپریم کونسل ملک کو چلا رہی ہے،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ملک میں جمہوری عمل کو الٹ پلٹ کرنا چاہتی ہے اور وہ عوام کو اپنے صدر کو جمہوری طور پر منتخب کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی نااہلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی جرنیل اقتدار چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
مصر کے جمہوریت نواز کارکنان اور سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاجی تحریک میں پیش پیش ''چھے اپریل'' گروپ نے سابق دور حکومت میں اہم عہدوں پر فائز رہنے اور خدمات انجام دینے والے سینئر عہدے داروں اور سیاست دانوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انھوں نے مبارک دور کی باقیات کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ملک کا نیا آئین مرتب کرنے والی اسمبلی (پینل) کی دوبارہ تشکیل کی جائے جس میں ان کے بہ قول معاشرے کے تمام طبقات کو نمائندگی دی جائے۔