شام میں حکومت کے خلاف کارروائیوں کے لیے قائم کردہ "فری آرمی افسران گروپ" کے آپریشن کمانڈر کرنل حسام الدین العواک نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں حلیف ممالک کی جانب سے اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے، تاہم نے یہ نہیں بتایا کہ آیا انہیں اسلحہ کس ملک سے فراہم کیا جاتا ہے۔
کرنل العواک کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پیسے کی قلت ہے کیونکہ انہیں باہر سے اسلحہ تو مل رہا ہے لیکن رقوم نہیں مل رہی ہیں۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق ترکی میں موجود شام کی فری آرمی کے افسر نے بتایا ہے کہ باغی فوجیوں کے پاس صرف ہلکے ہتھیار ہیں جن سے وہ پوری قوت کے ساتھ لڑائی لڑ رہے ہیں تاہم انہیں یقین ہے کہ وہ کمزور دفاعی صلاحیت کے باوجود پھوٹ کا شکار اسد نواز فوج کو شکست فاش سے دوچار کریں گے۔
خیال رہے کہ سرکاری فوج سے فرار کے بعد فری آرمی سے وفاداری کرنے والوں کے عہدوں میں ترقی بھی کی جا رہی ہے۔ کرنل حسام الدین کو فری آرمی کی جانب سے آپریشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول گروپ کا سربراہ بنائے جانے کے بعد انہیں بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں باغی فوجی افسر کا کہنا تھا کہ وہ گروپ میں شامل فوجی افسران کی تعداد نہیں بتا سکتے تاہم ان کے گروپ میں شام میں تمام قومیتوں اور طبقات کے لوگ موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے ساتھ بعض ایسے افسران بھی کام کر رہے ہیں جنہیں ماضی میں سرکاری فوج کی جانب سے ناقابل اعتبار قرار دیا جا چکا ہے۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں کرنل العواک نے کہا کہ ان کا ایک مکمل انٹیلی جنس سسٹم ہے جو سرکاری فوج سے مفرور ہونے والوں سے فوج میں موجود بے چینی کے بارے میں جان کاری کرتا ہے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آیا اور کون کون سے عہدیدار فوج سے فرار ہونا چاہتے ہیں تاکہ انہیں فرار میں ان کی مدد کی جا سکے۔ شامی فری آرمی کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ شام میں ایرانی جنگجو اور بڑے افسر بھی موجود ہیں جو باغیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
شام میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کرنل عواک نے کہا کہ انہیں اپوزیشن جماعتوں اور سیاست دانوں کے مابین اختلافات پر قلق ہے تاہم وہ توقع رکھتے ہیں کہ اپوزیشن دھڑے جلد متحد ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں ہمیں حکومت نوازوں کےخلاف بھرپور جنگ لڑنا ہو گی جس کے لیے فوج اور سیاسی محاذ پر تمام دھڑوں میں اتحاد نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ شامی قومی کونسل سے عوام کو جو توقعات تھیں وہ فی الحال ان پر پورا نہیں اتر سکی۔