ایران کے جنوب مغرب میں عرب اور سُنی اکثریتی صوبہ خوزستان کے مرکزی شہر الاھواز کو ایران میں ضم کرنے کی ایک سو گیارہویں سالگرہ پر علاحدگی پسندوں کے مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔ دوسری جانب سیکیورٹی اداروں نے صوبے میں کسی قسم کی گڑ بڑ روکنے کے لیے بھاری نفری تعینات کی ہے اس کے باوجود شہریوں کے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے جنوب مغرب میں صوبہ خوزستان کے مرکزی شہر الاھواز کو اپریل سنہ 1925ء کو ایران میں ضم کر دیا گیا تھا تاہم ایران میں شامل کیے جانے کے باوجود اھواز کی اکثریت آبادی آزادی کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق جمعرات اور جمعہ کو اھواز میں کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں اور شہر میں فضاء سخت کشیدہ ہے۔
رپورٹس کےمطابق اھواز اور اس کے آس پاس کے شہروں میں سیکیورٹی کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے جس نے ہنگامی حالت نافذ کرکے تین یا اس سے زیادہ افراد کے ایک ساتھ چلنے پھرنے یا بیٹھنے پرپابندی عائد کردی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اھواز شہر کے علاوہ انقلاب کالونی، کوٹ عبداللہ، صیاحی اور العزیزیہ میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں کیونکہ پندرہ اپریل سنہ 2005ء کو بھی ان علاقوں میں علاحدگی کے حق میں بڑے بڑے جلسے اور جلوس نکالے گئے تھے جو صوبائی پولیس کے کنٹرول سے باہر ہو گئے تھے۔
اھواز سے العربیہ نیوز چینل کو اطلاعات ملی ہیں کہ شہر کی شاہراؤں پر سیکیورٹی اہلکار ہلکے ہھتیاروں اور کلاشنکوفوں کے ساتھ گشت کر رہے ہیں تاہم وہ گشت کے دوران فوجی گاڑیوں کے بجائے سول گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں۔ شہروں میں تین یا اس سے زیادہ افراد کے ایک ساتھ چلنے پھرنے پر پابندی ہے اور اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔
گذشتہ روس سیکیورٹی اہلکاروں نے تین افراد کو حراست میں لیا تھا تاہم بعد ازاں انہیں چھوڑ دیا گیا۔ شہریوں کی گرفتاریوں کی خبروں کی تصدیق نہیں کی جا سکی۔ اھواز میں قلعہ کنعان میں سینکڑوں افراد نے ایک علاحدگی کے حق میں ایک جلوس بھی نکالا۔ اس کے علاوہ ابو حمیضہ کے علاقے میں گذشتہ دو دن سے احتجاجی مظٓاہرے جاری ہیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے اھواز میں کسی قسم کی کشیدگی کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ صوبے میں حالات قابو میں ہیں اور زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔ البتہ میڈیا رپورٹس میں اھواز میں عرب اکثریتی شہریوں کو حکومت کے خلاف بیرونی طاقتوں بالخصوص برطانیہ کی طرف سے اکسانے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ خیال رہے صوبہ اھواز عرب اکثریتی آبادی ہونے اور علاحدگی کی تحریک کے باعث ایران کا پسماندہ علاقہ سمجھا جاتا ہے، تاہم تیل اور قدرتی گیس جیسے وسائل سے مالا ہے۔