ترکی، عراق کے لیے "دُشمن ریاست" بنتا جا رہا ہے: نوری المالکی
ایردوآن خطے میں تھانیداری کرنا چاہتے ہیں
عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ پڑوسی اسلامی ملک ترکی دوست کے بجائے "دشمن ریاست" کا روپ اختیار کرتا جا رہا ہے اور ان کے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن خطے پر اپنی بالادستی کے قیام کا خواب دیکھ رہے ہیں۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق عراقی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ان کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ"ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کے حالیہ بیانات کو دیکھا جائے تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عراق کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت کرنا چاہتے ہیں"۔
انہوں نے کہا کہ ایردوآن اب بھی خطے کی تھانیداری کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ کتنی افسوس کی بات ہے کہ ترک وزیر اعظم ایسی بیان بازی کر رہے ہیں جس سے عراق میں فرقہ واریت کو فروغ مل رہا ہے، ان کے خطرناک عزائم قوم کے سامنے واضح ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قوم نے ان ترکی کے رویے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
نوری المالکی کا کہنا تھا کہ "میں ترک وزیر اعظم پر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ خطے کے ممالک کے بارے میں ان کی پالیسی خود ترکی کے مفادات کے لیے نہایت نقصان دہ اور تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ ترکی جس ڈگر پر چل رہا ہے اگراس نے رویہ تبدیل نہ کیا تو وہ جلد خطے کے ممالک کے لیے ایک دشمن ریاست کی حیثیت اختیار کر لے گا۔
خیال رہے کہ عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کو اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوان کا جمعرات کے روز وہ بیان ناگوار گذرا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مالکی عراق میں سیاسی استبداد کی راہ پر چل رہے ہیں اور انہوں نے اپنی حکومت کے دوران اہل سنت کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا ہوا ہے۔
جمعرات کو انقرہ میں عراقی صوبہ کردستان کے وزیر اعلیٰ مسعود البارزانی کے اعزاز میں دیے گئے استقبالیہ میں ایردوآن کا کہنا تھا کہ عراقی حکومت ملک کو جس طرف لے جا رہی ہے اور کے نتائج میں خیر کا کوئی پہلو موجود نہیں۔