اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے شام میں تین سو مبصرین بھجوانے کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی ہے۔ یہ مبصرین پہلے مرحلے میں نوے دن تک جنگ بندی کی نگرانی کریں گے۔ کونسل نے اس رائے کا بھی کھلے عام اظہار کیا کہ شام میں فریقین کے درمیان جنگ بندی واضح طور پر نامکمل ہے۔
ادھر یو این میں فرانسیسی مندوب نے شامی حکومت پر اپنی ذمہ داری پوری کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مبصرین کے کام میں شامی حکومت کی پیدا کردہ رکاوٹ کی شکایت براہ راست سیکیورٹی میں اٹھائی جائے گی۔ ہم مبصرین کو آزادانہ اپنا کام مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
درایں اثنا اقوام متحدہ ہی میں جرمنی کے مستقل مندوب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سیکیورٹی کونسل کی جانب سے شام میں تین سو مبصرین ارسال کرنے سے متعلق قرارداد کوفی عنان کے منصوبے کو آگے بڑھانے سے متعلق ہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شامی حکام شہروں پر اب بھی گولا باری جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کا نشانہ عام شہری بن رہے ہیں۔
شام کی جنرل انقلاب کونسل کے مطابق ہفتے کے روز اکیس افراد شامی حکام کی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں۔ ادھر جہموریت نواز کارکنوں نے ہفتے کے روز دارلحکومت دمشق میں ایک فوجی ٹھکانے میں زور دار دھماکے کی اطلاع دی ہے۔ اس کے بعد متاثرہ علاقے سے دھویں کے مرغولے آسمان کی جانب بلند ہوتے دیکھے گئے ہیں۔
المزہ کا علاقہ دارلحکومت میں مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ جگہ شامی صدر بشار الاسد کی رہائش گاہ سے چند کلومیٹر دور واقع ہے۔ اسی میں متعدد ممالک کے سفارتخانے اور مشنز موجود ہیں۔
ہفتے کے روز شام کی سرکاری نیوز ایجنسی "سانا" نے بتایا کہ جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی مبصرین حمص شہر پہنچے ہیں۔ ایک دوسری پیش رفت میں شام کی حکومت مخالف قومی کونسل نے ایک بیان میں بین الاقوامی مبصرین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پہلے مرحلے پر حمص ہی میں رہیں کیونکہ ان کی موجودگی سے حکومت اپنے جرائم میں مزید آگے بڑھنے کی جرات نہیں کر سکے گی۔ نیوز ایجنسی کے مطابق مبصرین نے حمص کے دورے کے بعد گورنر سے بھی ملاقات کی ہے۔
حمص کے پرانے علاقے سے کوارڈینیٹر عمر التلاوی نے اے ایف پی کو بذریعہ اسکائپ بتایا کہ ہفتے کی صبح سے حمص شہر کے متعدد علاقوں میں نسبتا سکون رہا۔ بجلی کی بندش اور مواصلاتی نظام منقطع ہونے کی وجہ سے شہر پر گولا باری کا سلسلہ بھی بند رہا۔
مسٹر التلاوی کے مطابق یہ خاموشی شاید حمص میں مبصرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کا پیش خیمہ ہے۔ انسانی حقوق کی آبزرویٹری کے مطابق درعا کے جنوب میں چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا۔