منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: اتوار 01 جمادى الثانية 1433هـ - 22 اپریل 2012م KSA 08:10 - GMT 05:10

دورہ، ایران کے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش

"احمدی نژاد کا دورہ جزیرہ ابو موسیٰ عربوں کے خلاف اندھے تعصب کا اظہار"

اتوار 01 جمادى الثانية 1433هـ - 22 اپریل 2012م
دبئی ۔ ناصر شریفی

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کا چند ہفتے قبل متنازعہ جزیرہ ابو موسیٰ کا دورہ ملک کے سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے جہاں احمد نژاد کے اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر محمود احمدی نژاد نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ متنازعہ جزیرے کا دورہ کر کے ملک کو درپیش داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے۔

سنہ 2009ء کو ہونے والے ایران کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد حکومتی انتقام سے بچنے کے لیے جلاوطن سیاسی تجزیہ نگار بابک داد نے حال ہی اپنے ایک مضمون میں احمدی نژاد کے دورہ جزیرہ ابو موسٰی پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ "جزیرہ ابو موسیٰ ایک متنازعہ علاقہ ہے اور صدر کی جانب سے اس کا دورہ ایران کے جھوٹے قومی تعصب اور عربوں سے انتقام کی بدترین مثال ہے۔"

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق ایران کا سرکاری میڈیا صدر محمود احمدی نژاد کے دورہ ابو موسیٰ کو پوری حکومت اور قوم کا متفق علیہ دورہ قرار دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ صدر محمود احمدی نژاد متحدہ عرب امارات کے ساتھ تین متنازعہ جزیروں ابو موسیٰ، طنب صغریٰ اور طنب کبریٰ کے تنازع کے حل کے خو اہاں ہیں۔

بابک داد لکھتے ہیں کہ "احمدی نژاد کا دورہ ابو موسیٰ صرف ان کا ذاتی اقدام ہو سکتا ہے جسے پوری قوم کا متفقہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ گو کہ صدر نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ انہیں اس دورے میں نہ صرف اپنے قدامت پسند حامیوں کی حمایت حاصل ہے بلکہ مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ کے گروپ کی طرف سے بھی حمایت کی گئی ہے۔

حال ہی میں جب ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے متنازعہ جزیرے ابو موسیٰ کا دورہ کیا تو متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے اس پر سخت احتجاج کرتے ہوئے معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھایا۔ اس کے فوری بعد تہران حکومت کی جانب سے بھی اقوام متحدہ میں ایک درخواست دائر کی گئی، جس میں ایک جانب صدر احمدی نژاد کے دورہ ابو موسیٰ کا دفاع کیا گیا اور ساتھ ہی کہا گیا کہ ایران پڑوسی ملکوں کے ساتھ جزیروں کے تنازعات کے حل کے لیے تیار ہے۔

خیال رہے کہ خلیج تعاون کونسل کا مشترکہ موقف یہ ہے کہ جزیرہ ابو موسیٰ اور کئی دوسرے جزیروں پر ایران کا قبضہ نا جائز ہے۔ جی سی سی ایران سے مسلسل مطالبہ کرتی آ رہی ہے کہ وہ جزیروں کے تنازعات کے حل کے سلسلے میں ٹھوس بات چیت کی طرف آئے لیکن ایران بات چیت کے دعوے ضرور کرتا ہے لیکن عملاً اس نے ایک مرتبہ بھی اس مقصد کے لیے مذاکرات نہیں کیے۔

احمدی نژاد کی جارحانہ سوچ

مبصرین کےخیال میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اور ان کی حکومت اندرونی سطح پر کئی سنگین نوعیت کے مسائل اور بحرانوں کا شکار چلی آ رہی ہے۔ انہوں نے ابو موسیٰ جزیرے کا دورہ کر کے ان مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی۔ ان کی کوشش ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے اپوزیشن اور حکومت میں اپنے مخالفین کا دباؤ کم کر سکیں یا اپنے بارے میں پائی جانے والی نفرت میں کوئی کمی لائی جا سکے۔

مبصرین کےخیال میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد ایک فوجی شخصیت نہ ہونے کے باوجود جارحانہ اور فوجی عزائم کے مالک ہیں اور دوسرے ملک پر حملے کو وہ اپنے دفاع کا بہترین ذریعہ سمجھتے ہیں۔

تجزیہ نگار بابک داد "کویا نیوز" نامی ویب سائٹ کے لیے لکھے گئے مضمون میں بیان کرتے ہیں کہ انقلابی حکومتی عہدیداروں اور عوام کی سوچ میں بڑا فرق ہے۔ احمدی نژاد ذاتی طور پر کوئی فوجی تربیت یافتہ نہیں لیکن ان کا خیال ہے کہ جس طرح وہ سوچتے ہیں پوری قوم بھی اسی طرح سوچتی ہے۔

جس طرح ان کا خیال ہے کہ ایران کا دفاع جنگ کے بغیر ممکن نہیں پوری قوم کا بھی یہی خیال ہے۔ ایسا ہر گز نہیں۔ وہ دراصل اپنے اس انقلابی نظام کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ جمہوری طریقے سے ان کی فکر انقلاب کو نقصان پہنچ سکتا ہے لہٰذا وہ اپنے دفاع کے لیے صرف اور صرف طاقت کے استعمال کی پالیسی پر عمل پیرا رہیں۔ بابک کا کہنا ہے کہ ایران کے بر سر اقتدار گروپ کو یہ یقین ہو چلا ہے کہ مذاکرات کی کوششیں اپنی جگہ لیکن مغرب کے ساتھ ایران کی جنگ ایک مرتبہ ضرور ہو کر رہے گی۔