بحرینی حکام نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ اتوار کو وہاں ہونے والی فارمولا ون گرینڈ پرکس ریس احتجاجی مظاہروں سے متاثر نہیں ہو گی۔ شیڈول کے مطابق اس ریس کو پاکستانی وقت کے مطابق شام چار بجے منعقد ہونا ہے۔ ریس کے راستوں پر سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے تاکہ حکومت کے مخالفین کو وہاں سے دور رکھا جاسکے۔
خلیجی ریاست بحرین میں حکومت مخالف مظاہرین کی پولیس کے ساتھ گزشتہ رات ہونے والی جھڑپوں کے بعد حکام کو ہفتے کے روز ایک شخص کی لاش ملی تھی۔ اپوزیشن نے الزام لگایا تھا کہ یہ شخص کئی دیگر مظاہرین کے ساتھ پولیس کی طرف سے تشدد کے دوران شدید زخمی ہو گیا تھا۔
بحرین کے اس ہلاک ہونے والے شہری کا نام صالح عباس حبیب بتایا گیا تھا۔ اس کی عمر تیس اور چالیس برس کے درمیان تھی۔ الوفاق پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ رات ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس نے مبینہ طور پر نہتے اور پرامن شہروں پر تشدد کیا۔
جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب یہ جھڑپیں متنازعہ فارمولا ون گراں پری کے سرکٹ سے کچھ ہی دور اس وقت ہوئی تھیں جب بہت سے مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ حکمرانوں کے خلاف نعرے لگانے والے ان مظاہرین نے موٹر ریسنگ کے سرکٹ سے کچھ ہی فاصلے پر مختلف دیہات کے نزدیک سڑکوں پر ٹائر بھی جلائے تھے۔
اس دوران سکیورٹی دستوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس بھی استعمال کی تھی۔ اس کے جواب میں مظاہرین نے پٹرول بم پھینکے اور پتھراؤ بھی کیا تھا۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ فارمولا ون ریس منسوخ کی جائے لیکن حکومت اسے بہر صورت منعقد کرانے پر مُصر ہے۔
برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے اپنے بحرینی ہم منصب سے بات کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بحرینی حکومت مظاہرین سے نمٹنے میں تحمل سے کام لے۔
گزشتہ برس گرینڈ پرکس ریس کو اس وقت منسوخ کرنا پڑا تھا جب فروری اور مارچ کے مہینوں کے درمیان جمہوریت کے حق میں مظاہرے ہوئے تھے جن میں پینتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
بحرین کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن حماد الخلیفہ نے کہا ہے کہ گرینڈ پرکس کو منسوخ کرنے سے صرف شدت پسندوں کو تقویت ملے گی اور اس کے انعقاد سے معاشرے میں خلیج کو کم کی جا سکے گا۔