منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: اتوار 01 جمادى الثانية 1433هـ - 22 اپریل 2012م KSA 11:52 - GMT 08:52

سرکوزی اور فرانسو کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع

فرانس میں صدارتی انتخاب کا پہلا مرحلہ شروع

اتوار 01 جمادى الثانية 1433هـ - 22 اپریل 2012م
سرکوزی اور فرانسو کے درمیان سخت مقابلہ متوقع
سرکوزی اور فرانسو کے درمیان سخت مقابلہ متوقع
العربیہ ڈاٹ نیٹ

فرانس میں صدارتی انتخابات کے لیے چار کروڑ چالیس لاکھ ووٹرز نئے صدر کا چناو کریں گے۔ صدر نیکولا سارکوزی کو دوبارہ منتخب ہونے میں کافی چیلنجز درپیش ہیں۔ دنیا کی پانچویں بڑی طاقت کے صدر کے چناو کے لیے وو ٹنگ صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک ہو گی۔

نیکولا سرکوزی فرانس کی دائیں بازو کی جماعت کے دوبارہ صدارتی امیدوار ہیں۔ اپنے دور اقتدار میں ملک میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری پر انہیں تنقید کا سامنا رہا ہے۔ نکولا سرکوزی کا اصرار ہے کہ انہیں خاموش اکثریت کی حمایت حاصل ہے اور انتخابی جائزے ان کی صحیح مقبولیت کو ظاہر نہیں کرتے۔

انتخابی جائزوں کے مطابق سوشلسٹ امیدوار فرانسو عولینڈ صدارت کے مضبوط امیدوار ہیں اور وہ فرانس پر دائیں بازو کا 17 سالہ سیاسی غلبہ ختم کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ فرانسیسی صدارتی انتخابات میں ملک میں بیروزگاری سب سے اہم موضوع ہے۔ فرانس میں اس وقت دس فیصد لوگ بے روزگار ہیں۔

انتخابی جائزوں کے مطابق پہلے مرحلے میں صدر سرکوزی اور سوشلسٹ امیدوار فرانسو عولینڈ میں کانٹے کا مقابلہ ہوگا ہے لیکن چھے مئی سے شروع ہونے والے دوسرے مرحلے میں سوشلسٹ امیدوار با آسانی جیت جائیں گے۔

انتہائی دائیں بازو کی امیدوار میرین لی پاں مقبولیت میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ میرین لی پاں تارکین وطن سے متعلق اپنے سخت موقف کے لیے جانی جاتی ہیں۔ انہیں انتخابی جائزوں کے مطابق فرانس کے ایک چوتھائی ووٹر سیاسی وابستگی کے حوالے سے ابھی تک ا پنا ذہن نہیں بنا سکے ہیں۔

صدر سرکوزی اور ان کے مضبوط حریف سوشلسٹ امیدوار فرانسو عولینڈ نے ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے تقریباً ایک جیسی ہی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ دونوں امیدوار ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے بچت کی پالیسی کی بجائے پیدوار بڑھانے کی پالیسی کا وعدہ کر رہے ہیں۔

سوشلسٹ امیدوار وعدہ کر رہے ہیں کہ اگر وہ انتخابات میں کامیاب ہوئے تو وہ اپنے دور اقتدار میں ڈیڑہ لاکھ نئی نوکریاں پیدا کریں گے جبکہ نکولا سرکوزی اس بارے میں کوئی تعداد بتانے سےگریز کر رہے ہیں۔