یمن کے جنوبی شہر لودر میں القاعدہ کے ٹھکانے پر مشتبہ طیاروں کے فضائی حملے میں اس کے سترہ جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔
یمن کی وزارت دفاع کی ویب سائٹ چھبیس ستمبر ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق اتوار کو صوبہ ابین کے شہر لودر کے جنوب مشرق میں القاعدہ کے ٹھکانوں میں سے ایک پر بمباری کی گئی ہے جس کَے نتیجے میں سترہ جنگجو مارے گئے ہیں۔
یمن کی وزارت دفاع کے مطابق جنوبی صوبہ ابین میں گذشتہ تین روز کے دوران فضائی حملوں میں مہلوکین کی تعداد ستاون ہوگئی ہے۔
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ لودر میں فضائی حملہ یمنی فضائیہ نے کیا ہے یا امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے القاعدہ کے جنگجوؤں کے ٹھکانے پر میزائل فائر کیے ہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی بدھ کی اشاعت میں ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں نے گذشتہ چار ماہ میں یمن میں آٹھ فضائی حملے کیے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق امریکا کا مرکزی خفیہ ادارہ سی آئی اے اوباما انتظامیہ سے یمن میں مزید فضائی حملوں کی اجازت طلب کر رہا ہے اور وہ شہریوں کی ہلاکت کے خطرے کے پیش نظر بھی اپنے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں سے القاعدہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے پر غور کررہا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اگر صدر براک اوباما کی انتظامیہ سی آئی اے کو حملوں کی اجازت دے دیتی ہے تو یمن میں امریکا کی نئی فوجی سرگرمی سیاسی طور پر بہت ہی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی طرح یمن میں بھی سی آئی اے نے القاعدہ کے ٹھکانوں پر اپنے جاسوس طیاروں کے ذریعے حملوں کی کبھی ذمے داری قبول نہیں کی جبکہ امریکا یمن میں القاعد کی شاخ کو سب سے زیادہ متحرک اور خطرناک خیال کرتا ہے۔
صوبہ ابین کے دارالحکومت زنجبار پر گذشتہ سال مئی سے القاعدہ کے جنگجوٶں نے قبضہ کررکھا ہے اور ان کی تب سے یمنی فوج کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔یمنی فوج کی لودر میں بھی القاعدہ کے جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی جاری ہے اور جنوبی صوبوں میں لڑائی کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یواین ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ اسے یمن کے دو لاکھ سولہ ہزار مہاجرین اور قریباً پانچ لاکھ اندرون ملک بے گھر افراد کو امدادی سامان مہیا کرنے کے لیے سال 2012ء کے دوران چھے کروڑ ڈالرز کی امداد کی ضرورت ہوگی۔