منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: اتوار 01 جمادى الثانية 1433هـ - 22 اپریل 2012م KSA 22:38 - GMT 19:38

شامی فوج کی الدوما میں گولہ باری سے ہلاکتیں

شامی فورسز بھاری ہتھیاروں کے استعمال سے گریز کریں: کوفی عنان

اتوار 01 جمادى الثانية 1433هـ - 22 اپریل 2012م
شام میں جنگ بندی پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے
شام میں جنگ بندی پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے
دمشق ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے شام میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے تین سو عالمی مبصرین کی تعیناتی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے ملک کے استحکام کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

جنیوا میں کوفی عنان کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں شام کی سرکاری سکیورٹی فورسز اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار پھینک دیں اور جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے غیر مسلح مبصرین کے ساتھ مل کر کام کریں۔

انھوں نے کہا کہ ''حکومت کو خاص طور پر ہتھیاروں کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے اور وہ اپنے وعدے کے مطابق شہری آبادی کے مراکز سے فوجی یونٹوں کو واپس بلائے اور چھے نکاتی امن منصوبے پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں''۔ وہ شام کے لیے اپنے چھے نکاتی امن منصوبے کا حوالہ دے رہے تھے۔

لیکن شامی فوجیوں نے بر سر زمین حکومت مخالفین کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اتوار کو دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں میں گولہ باری کی ہے جبکہ اقوام متحدہ کی ہراول ٹیم شام کے شورش زدہ علاقوں کا دورہ کیا ہے۔

مقامی رابط کمیٹیوں کے مطابق دمشق سے دس کلومیٹر شمال مغرب میں واقع قصبے دوما میں اتوار کی صبح دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ دوما میں دو افراد مارے گئے ہیں اور ایک شخص حطیطہ میں مارا گیا ہے۔

ایک مقامی کارکن عمر حمزہ نے دوما میں فوج کی ٹینکوں سے عمارتوں پر گولہ باری میں چار افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ واضح رہے کہ شام میں گذشتہ ہفتے جنگ بندی کے آغاز سے قبل دوما میں سرکاری سکیورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوتی رہی تھیں۔

شام میں اس وقت اقوام متحدہ کے سات مبصرین پر مشتمل ہراول ٹیم اس وقت موجود ہے اور ان میں سے چار مبصرین نے حمص اور اس کے نواحی علاقوں کا دورہ کیا تھا اور دو وہیں رک گئے تھے۔ صدر بشار الاسد کے مخالف کارکنان نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی ہے جس میں وہ اقوام متحدہ کے مبصرین سے شہر ہی میں رکے رہنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک کا مبصرین کو مخاطب ہو کر کہنا تھا کہ آپ کی آمد کے بعد ہلاکتوں کا سلسلہ تھم گیا ہے جبکہ اس شہر میں پانچ فروری سے ہلاکتیں جاری تھیں۔

درایں اثناء شامی آبزرویٹری کی اطلاع کے مطابق ساحلی شہر بانیاس میں مسلح افراد کے حملے میں سکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔ اس شہر میں گذشتہ ایک سال میں اس طرح کا یہ پہلا واقعہ ہے۔