اسرائیلی فوج حکم ملنے پر ایران، لبنان اور غزہ پر حملے کے لیے تیار

صہیونی فوج کی سرحد پار خفیہ جنگی کارروائیوں کا اعتراف

نشر في:

اسرائیل کی مسلح افواج ملک کی سرحدوں سے باہر خصوصی کارروائیاں کر رہی ہیں اور وہ حکم ملنے کی صورت میں ایران کی جوہری تنصیبات ،غزہ اور لبنان پر حملے کے لیے تیار ہیں۔

اسرائیل کی مسلح افواج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل بینی گانز نے یہ اعترافیہ دھمکی کثیر الاشاعت روزنامے یدیعوت احرنوت کے ساتھ ایک انٹرویو میں دی ہے۔ صہیونی جرنیل کا کہنا ہے کہ رواں سال ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو روکنے کے حوالے سے اسرائیل اور عالمی برادری کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

مسٹر گانز نے کہا کہ ''ہمارے خیال میں ایک جوہری ایران بہت بری چیز ہے جس کو پوری دنیا اور اسرائیل کو روکنے کی ضرورت ہے۔ہم اس ضمن میں منصوبہ بندی کررہے ہیں اور اصولی طور پر اقدام کے لیے تیار ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ابھی فضائیہ کے سربراہ ادو نہشتان کو ایران پر حملے کا حکم دے دوں گا''۔

اسرائیلی آرمی چیف کا یہ انٹرویو صہیونی ریاست کے فلسطینی سرزمین پر قیام کی چونسٹھویں سالگرہ کے موقع پر بدھ کو شائع ہو گا۔ اس انٹرویو کے اقتباسات کے مطابق صہیونی جنرل نے اعتراف کیا کہ اسرائیلی فوج سرحدپار کارروائیاں کررہی ہے اور ماضی کے مقابلے میں ان میں اضافہ ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خطرات کی سطح میں اضافہ ہو گیا ہے۔ انھوں نے ''سرحد پار صہیونی فوج کی خفیہ سرگرمیوں کے بارے میں کہا کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جو بینی گانز نے ایجاد نہیں کی ہے۔ میں اس کا کریڈٹ نہیں لے رہا بلکہ میں نے اس طرح کی خصوصی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے''۔

اس سال جنگ پھوٹ پڑنے کے حوالے سے مسٹر گانز نے کہا کہ ''ہمارے انٹیلی جنس جائزے کے مطابق خطے میں بگڑتی ہوئی صورت حال اور عدم استحکام کے پیش نظر ماضی کے مقابلے میں جنگ کے امکانات زیادہ ہیں۔تاہم جنگ کے واضح اشارے نہیں ہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''علاقائی جنگ کی صورت میں صہیونی فوج لبنان اور غزہ کی جانب سے آنے والے راکٹوں کو روکنے کے لیے تیار ہو گی''۔ انھوں نے مزید کہا کہ ''میں یہ وعدہ نہیں کر سکتا کہ کوئی بھی میزائل یہاں نہیں گرے گا، بلکہ وہ گریں گے اور اس سے بیرونی یا داخلی محاذ پر کوئی آسان جنگ نہیں ہو گی۔ تاہم میں یہ نہیں کہہ رہا کہ کوئی اس سلسلہ میں ہمارا امتحان لے''۔

صہیونی فوج کے سربراہ نے کہا کہ ''جب لبنانی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اپنے بنکر سے باہر آئے تھے تو انھیں درست طور پر تشویش ہوئی تھی۔ انھوں نے وہ کچھ دیکھا جو ماضی میں لبنان کے ساتھ ہوا تھا، لبنان کے ساتھ آیندہ بھی یہ سلسلہ رکے گا نہیں اور میرے خیال میں وہ اس کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں''۔