اسرائیلی جیلوں میں 1350 فلسطینی قیدیوں کی بھوک ہڑتال
صہیونی حکام کے انسانیت سوز سلوک کے خلاف احتجاج
اسرائیلی جیلوں میں قید مزید ایک سو پچاس فلسطینیوں نے کھانا کھانا چھوڑ دیا ہے جس کے بعد صہیونی حکام کے ناروا اور انسانیت سوز سلوک کے خلاف احتجاج کے طور پر بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینیوں کی تعداد بڑھ کر ساڑھے تیرہ سو ہو گئی ہے۔
اسرائیل کے محکمہ جیل خانہ جات (آئی پی ایس) کی خاتون ترجمان سیوان وائزمین نے اتوار کو ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں کی تعداد ایک ہزار تین سو پچاس ہوگئی ہے۔
آئی پی ایس کی ترجمان کے مطابق گذشتہ منگل کوبارہ سو فلسطینی قیدیوں نے جیل حکام کے ناروا سلوک کے خلاف غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال کر دی تھی۔ان سے اظہار یک جہتی کے لیے دو ہزار تین سو اور قیدیوں نے بھی ایک دن کے لیے بھوک ہڑتال کی تھی۔
اسرائیلی عقوبت خانوں میں پابند سلاسل فلسطینیوں کی اس اجتماعی بھوک ہڑتال سے قبل دس قیدیوں نے بھوک ہڑتال کر رکھی تھی۔ان میں سے چار کو ان کی حالت بگڑنے کے بعد جیل کے اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا تھا۔
ان میں سے دوقیدیوں ستائیس سالہ بلال دیاب اور چونتیس سالہ ثائر ہلاہلہ نے گذشتہ چوّن روز سے کھانا پینا چھوڑ رکھا ہے۔ قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم ادامیر کا کہنا ہے کہ ان کی صحت تیزی سے بگڑ رہی ہے۔
مذکورہ دس قیدیوں کو اسرائیلی حکام نے کسی الزام کے بغیر انتظامی حراستی احکامات کے تحت پابند سلاسل کر رکھا ہے اور اس قانون کے تحت انھیں مزید چھے ماہ کے لیے قید رکھا جا سکتا ہے۔
اس وقت اسرائیلی جیلوں میں چارہزار چھے سو ننانوے فلسطینی مختلف الزامات کے تحت قید ہیں اور ان میں سے تین سو انیس کو انتظامی حراستی قانون کے تحت فلسطینی علاقوں سے گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا۔
یادرہے کہ گذشتہ ماہ اسرائیلی جیل میں کسی الزام کے بغیر قید کاٹنے والی فلسطینی خاتون ھناء شلبی کو ان کی چوالیس روز تک بھوک ہڑتال کے بعد ایک مشروط معاہدے کے تحت رہا کر دیا گیا تھا اور انھیں مغربی کنارے میں ان کے آبائی علاقے میں بھیجنے کے بجائے تین سال کے لیے غزہ بدر کر دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ اس وقت اسرائیلی جیلوں میں قید بیس سے زیادہ دوسرے فلسطینیوں نے بھی صہیونی حکام کی چیرہ دستیوں کے خلاف بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔ ان افراد کو کسی الزام کے بغیر اسرائیلی جیلوں میں قید رکھا جا رہا ہے۔ انھیں نہ تو کسی عدالت میں پیش کیا جارہا ہے اور نہ ان کے خلاف مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔گذشتہ سال اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کی رہائی کے بدلے میں چھوڑے گئے پندرہ فلسطینیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان میں سے چھے ابھی تک اسرائیلی جیلوں میں بند ہیں۔
صہیونی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے انٹیلی جنس ذرائع کے تحفظ کے لیے مشتبہ فلسطینیوں کو کسی ٹرائل کے بغیر زیرحراست رکھتے ہیں لیکن انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور یورپی یونین کے ممالک فلسطینیوں کی پکڑ دھکڑ کے لیے اسرائیل کے اس غیر قانونی اقدام کی مذمت کر چکے ہیں۔
یاد رہے کہ برطانوی انتداب (مینڈیٹ) کے دور سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی قوانین کے تحت فوجی ٹرائبیونلز کسی بھی شخص کو کسی الزام کے بغیر چھے ماہ تک قید کرنے کا حکم دے سکتے ہیں اور حراستی مدت میں عدالت کے روبرو ہر نئی سماعت کے موقع پر منظوری کی صورت میں مزید چھے ماہ کے لیے توسیع کی جا سکتی ہے۔