امریکا اور افغانستان میں تزویراتی شراکت داری کے معاہدہ پر اتفاق

معاہدے کو حتمی شکل دینے میں ڈیڑھ سال کا عرصہ لگ گیا

نشر في:

افغان اور امریکی حکام نے دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی شراکت داری کے معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس معاہدے میں افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی،اس کی سرگرمیوں اور وہاں سے اس کے انخلاء کے رہ نما اصول وضع کیے گئے ہیں۔

افغان اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مئی میں نیٹو کے سربراہ اجلاس سے قبل اس معاہدے پر امریکی صدر براک اوباما اور صدر حامد کرزئی کے دستخط متوقع ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے کے بعض پہلوؤں کے بارے میں شدید اختلافات پائے جاتے تھے اور اب مفاہمت کی الگ یادداشتوں کے تحت ان اختلافات اور تحفظات کو دور کر دیا گیا ہے۔

افغانستان کے قومی سلامتی کونسل کے مشیر رنگین دادفر سپانتا کا کہنا ہے کہ ''آج (اتوار کو) جس دستاویز کو حتمی شکل دی گئی ہے ،اس کو افغانستان ،خطے اور دنیا کی سکیورٹی کے حوالے سے بڑی اہمیت حاصل ہے''۔

کابل میں متعین امریکی سفیر ریان سی کروکر اور رنگین دادفر سپانتا نے ایک تقریب میں اس معاہدے کو حتمی شکل دی ہے اور اس پر ابتدائی دستخط کیے ہیں۔افغان صدر حامد کرزئی کے دفتر نے ایک بیان میں اطلاع دی ہے کہ یہ معاہدہ اب دونوں صدور کے دستخط کے لیے تیار ہے۔

اس بیان کے مطابق رنگین دادفر سپانتا نے کہا کہ تزویراتی معاہدے کو حتمی شکل دینے میں ڈیڑھ سال کا عرصہ لگ گیا ہے۔واضح رہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کی سرگرمیوں اور خاص طور پر اس کی رات کے وقت جنگجوؤں کے خلاف کارروائیوں کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔دونوں ممالک نے ان اختلافی امور کو طے کرلیا ہے لیکن اس کی تفصیل نہیں بتائی۔