منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: پیر 02 جمادى الثانية 1433هـ - 23 اپریل 2012م KSA 13:50 - GMT 10:50

سائبر کرائم کی سخت سزاؤں کے باوجود

سعودی مشاہیر کے"ٹیوٹر" اکاؤنٹس کی ہیکنگ مہم پریشانی کا باعث

پیر 02 جمادى الثانية 1433هـ - 23 اپریل 2012م
ریاض ۔ محمد البوسی

سعودی عرب میں ان دنوں سماجی رابطے کی ویب سائٹ" ٹیوٹر" کے صارفین ہیکرز کی جانب سے شروع کی گئی مہم کے باعث سخت پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔

ہیکرز کی جانب سے گذشتہ کئی روز سے سعودی عرب اور دیگر ممالک کی مشاہیر شخصیات کے "ٹیوٹر" اکاؤنٹس ہیک کیے جا رہے ہیں۔ اب تک جن اہم شخصیات کے "ٹیوٹر" اکاؤنٹس ہیک کیے گئے ہیں میں افسانہ نگار عبدہ خال، صحافی اور دانشور ترکی الحمد، فن کار فائز المالکی، شاعر فہد عافت، دانشور عبداللہ العلویط اور خاتون سماجی رہ نما سعاد الشمری جیسی شخصیات شامل ہیں۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق سعودی عرب میں معروف شخصیات کے "ٹیوٹر" اکاؤنٹس کو ہیک کیے جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ماضی میں بھی اس طرح کی مہمات چلتی رہی ہیں تاہم جس شدت کے ساتھ اور منظم طریقے سے یہ مہم اب شروع کی گئی ہے وہ ماضی میں اس طرح کی کارروائیوں کی نسبت غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے۔

انٹرنیٹ بلاگرز اور ماہرین کا خیال ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائیٹس کے اکاؤنٹس کو محفوظ بنانے کے لیے "https " کوڈنگ ہی ایک مثالی طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ کسی بھی اکاؤنٹ کو محفوظ بنانے کے لیے اسمارٹ فون کا استعمال اور غیر مشابہ حروف اور اعداد پر مشتمل پاس ورڈ ضروری ہے کیونکہ انٹرنیٹ ہیکرز عموما صارف کے خفیہ کوڈ کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو جاتے ہیں۔

ہیکرز کے حملے سے متاثرہ افسانہ نگار عبدہ خال نے العربیہ نیوز پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "کسی دوسرے شخص کا اس کی اجازت کے بغیر سماجی رابطے کی ویب سائٹ کا اکاؤنٹ کھولنا یاس اس تک رسائی کی کوشش کرنا سعودی عرب میں سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔ سعودی عرب کے قانون کے تحت اس کی سزا قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جا سکتی ہیں۔ اس کے باوجود ہیکرز کی کارروائیوں کا نہ تھمکنے والا طوفان اب بھی جاری ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کے محکمہ مواصلات وانفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک عہدیدار ڈاکٹر ضیف اللہ الزھرانی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "سعودی عرب میں سائر کرائم روکنے کے لیے ایک باضابطہ شعبہ کام کر رہا ہے۔ یہ ادارہ براہ راست خادم الحرمین الشریفین کے حکم پر تشکیل دیا گیا ہے"۔

ایک سوال کے جواب میں محکمہ مواصلات کے عہدیدار نے کہا کہ سائبر کرائم کے انسداد کے لیے کام کرنے والے محکمہ نے اب تک ایسے کئی افراد کو حراست میں لے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے قانون کے تحت جرمانے اور قید کی سزائیں رکھی گئی ہیں۔