قاہرہ کی ایک اعلیٰ عدالت نے مصر کے معروف فلمی اداکار اور عرب دنیا کے سب سے مقبول کامیڈین عادل امام کو اپنے کرداروں میں اسلام اور مسلمانوں کی توہین کرنے کے جرم میں سنائی گئی تین ماہ قید بامشقت کی سزا برقرار رکھی ہے۔
قاہرہ کی ایک ماتحت عدالت نے انھیں فروری میں ان کی عدم موجودگی میں قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔عدالت نے عادل امام پر اسٹیج ڈراموں اور فلموں میں اپنے کرداروں میں توہین اسلام پر ایک سو چھیاسٹھ ڈالرز جرمانہ عاید کیا تھا۔وہ عرب دنیا کے بڑے فلمی اداکاروں میں سے ایک مانے جاتے ہیں۔وہ اپنے چالیس سالہ کیرئیر کے دوران متعدد کامیاب فلموں میں لازوال کردار ادا کر چکے ہیں۔
عادل امام نے اپنے خلاف عدالت کے اس فیصلہ کے بعد کہا تھا کہ ''بعض لوگ میرے خلاف میرے کام کی وجہ سے مقدمہ دائر کر کے شہرت حاصل کرنا چاہتے تھے اور وہ میرے کام کو اسلام کی توہین سمجھتے ہیں لیکن یہ درست نہیں ہے''۔ انھوں نے کہا کہ ''میں نے جتنا بھی کام کیا ہے ،وہ سنسر کے عمل سے گزرا تھا۔اگر وہ توہین آمیز ہوتا تو سنسر کو اس پر پابندی لگادینی چاہیے تھی''۔
اکہترسالہ معروف کامیڈین کے بہ قول ان کے جس کام پر تنقید کی جاتی ہے،ان میں 1994ء کی پروڈکشن ''الارہابی''(دہشت گرد) شامل ہے جس میں انھوں نے ایک اسلامی بنیاد پرست کا کردار پیش کیا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے مزاحیہ کھیل ''الزعیم''( لیڈر) پر بھی تنقید کی گئی تھی۔اس میں انھوں نے خطے کے مطلق العنان حکمرانوں کا مضحکہ اڑایا تھا۔
واضح رہے کہ مصر کے ٹیلی مواصلات اور تعمیرات کے ٹائیکون اور آزاد مصری سیاسی جماعت کے سربراہ نجیب ساویرس کے خلاف بھی اسلام اوراس کے شعائر کی توہین کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔
ارب پتی قبطی عیسائی نجیب ساویرس نے جون 2011ء میں اپنے ٹویٹر صفحے پر میکی ماٶس کے کارٹون میں اس کی ڈاڑھی بنا دی تھی اور منی ماٶس کے چہرے پر برقع اوڑھا دیا تھا اور یوں انھوں نے اسلامی شعائر کا مذاق اڑایا تھا۔ان کی اس حرکت پر مصر کے اسلام پسندوں نے شدید احتجاج کیا تھا اور انھوں نے ان کی کمپنی موبی نیل کے سیل فونز کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا تھا جس پر انھوں نے معافی مانگ لی تھی۔تاہم ان کے خلاف عدالت میں ابھی مقدمہ زیرالتوا ہے۔