لاہور: ریلوے اسٹیشن پر بم دھماکا، 2 افراد جاں بحق،27 زخمی

ایک پولیس اہلکار اور قُلی کی ہلاکت کی تصدیق

نشر في:

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر اور صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے ریلوے اسٹیشن پر بم دھماکے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور ستائیس زخمی ہو گئے ہیں۔

لاہور پولیس کے سربراہ اسلم ترین نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ بم پانچ کلو وزنی تھا اور یہ ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر ایک اور دو کے درمیان واقع کراچی جانے والی بزنس ایکسپریس ٹرین کے لیے مختص مسافر خانے میں چھپایا گیا تھا۔

انھوں نے بم دھماکے میں ایک قُلی اور ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔اسلم ترین نے ریلوے اسٹیشن پر سکیورٹی کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس بہت سے اسکینرز نصب ہونے کے باوجود بم والے تھیلے کے مسافرخانے میں پہنچنے کی تحقیقات کررہی ہے۔

دھماکے کے فوری بعد امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں اور ریسکیو 1122 کے حکام کے مطابق تمام زخمیوں کو گنگا رام ،میو اور سروسز اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔ان میں سے پانچ زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

ایک اور سنئیر پولیس افسر علی احمد ملک نے بتایا کہ بم ایک تھیلے میں چھپایا گیا تھا۔ اس کے پھٹنے کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔اس سے مسافر خانے کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور وہاں رکھا تمام فرنیچر درہم برہم ہوگیا۔ دھماکے سے قبل بزنس ایکسپرین ٹرین ریلوے اسٹیشن سے کراچی کے لیے روانہ ہوچکی تھی اور وہ اس بم حملے کا ہدف نہیں تھی۔

لاہور میں بم دھماکے کے بعد پشاور، کراچی اور کوئٹہ سمیت ملک کے تمام بڑے شہروں میں ریلوے اسٹیشنوں پر سکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور وہاں آنے اور جانےوالے مسافروں کی میٹل ڈیٹکیٹروں کی مدد سے سخت چیکنگ کی جارہی ہے۔

پاکستان کے وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے بم دھماکے میں جاں بحق افراد کے خاندانوں اور شدید زخمیوں کے لیے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو پانچ، پانچ لاکھ اور شدید زخمیوں کو ایک ایک لاکھ روپے معاوضے کے طور پر دیے جائیں گے۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے لاہور میں بم دھماکے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔