شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے جنگ بندی معاہدے کے مطابق شہروں سے ابھی تک بھاری ہتھیاروں کو نہیں ہٹایا جبکہ جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کے مبصرین کی موجودگی کے باوجود تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔
ترجمان نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ کوفی عنان کے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ شامی سکیورٹی فورسز نے اقوام متحدہ کے مبصرین سے ملنے والے افراد کو مبینہ طور پر قتل کر دیا ہے اور کوفی عنان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے شام میں مانیٹروں کی بھرپور موجودگی کی ضرورت پر زور دیں گے۔
واضح رہے کہ حماہ کے مکینوں نے بھی شہر میں بھاری ہتھیاروں کی موجودگی کی اطلاع دی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اربعین کے علاقے سے اقوام متحدہ کے مبصرین کے روانہ ہونے کے فوری بعد فوجیوں نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی تھی۔ان کے بہ قول فوج نے اپنے ٹینک سرکاری عمارتوں میں چھپا دیے ہیں لیکن فوجی ہر کہیں گشت کر رہے ہیں جبکہ جنگ بندی معاہدے کے تحت شامی فوج اپنے بھاری ہتھیاروں کو شہری علاقوں سے ہٹانے کی پابند ہے۔
اس دوران شام کے سرکاری میڈیا اور حزب اختلاف کے گروپوں نے اطلاع دی ہے کہ دارالحکومت دمشق میں منگل کو ایک بم دھماکے میں شامی فوج کے تین افسر ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے غیر مسلح مبصرین نے شورش زدہ شہر حمص کا دورہ کیا ہے۔
شامی صدر بشار الاسد کے خلاف تحریک میں پیش پیش مقامی رابطہ کمیٹیوں نے اطلاع دی ہے کہ حمص کے نزدیک واقع شہر کفرلہا کے زرعی علاقوں میں سرکاری سکیورٹی فورسز نے خودکار ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کی ہے۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کی اطلاع کے مطابق ''مسلح دہشت گرد گروپوں نے دمشق کے نواح میں دو فوجی افسروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے جبکہ ایک فوجی افسر بارزہ کے علاقے میں ہلاک ہوا ہے''۔دمشق کے مکینوں نے بتایا ہے کہ ایرانی ثقافتی مرکز کے باہر ایک پک اپ ٹرک میں دھماکا ہوا ہے لیکن اس سے اس عمارت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔