امریکا کا محکمہ دفاع پینٹاگان ''ڈیفنس کلینڈاسٹائن سروس''(دفاعی خفیہ سروس) کے نام سے ایک نیا سراغرساں ادارہ قائم کررہا ہے جو عالمی خطرات اور ابھرتی ہوئی اقتصادی اور فوجی طاقتوں پر نظر رکھے گا۔
امریکی وزیردفاع لیون پینیٹا نے حال ہی میں امریکی صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے اس نئی خفیہ ایجنسی کے قیام کا انکشاف کیا تھا۔اس کے قیام کے بعد امریکا کے انٹیلی جنس اداروں کی تعداد سترہ ہوجائے گی۔اس خفیہ ایجنسی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ عالمی تزویراتی خطرات اور ایران ،شمالی کوریا اور چین جیسے ممالک سے درپیش خطرات پر نظر رکھے گی۔
خفیہ دفاعی سروس امریکا کے مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے ،قومی خفیہ سروس اور پینٹاگان کی دفاعی انٹیلی جنس سروس (ڈی آئی اے) کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ یہ ڈی آئی اے کے ملازم جاسوسوں ہی کو اپنی صفوں میں بھرتی کرے گی اور انھیں پوری دنیا میں پھیلا دے گی تاکہ امریکا کی قومی سلامتی کودرپیش طویل المیعاد خطرات سے متعلق انٹیلی جنس معلومات کو اکٹھا کیا جاسکے اور ان خطرات کا بروقت توڑ کیا جاسکے۔
امریکا کی فوجی نیوز ویب سائٹ ''ان سائیڈ ڈیفنس''کی ایک رپورٹ کے مطابق محکمہ دفاع نے کانگریس سے اپنے جاسوسوں کو تاجروں کے بھیس میں دنیا بھر میں خفیہ کارروائیاں کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔
اوباما انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اب امریکا کی قومی سلامتی کے ضمن میں مشرق وسطیٰ سے آگے بھی چین کی ابھرتی ہوئی طاقت، شمالی کوریا اور ایران کے جوہری خطرات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔پینٹاگان کے ذرائع کے بہ قول نئی خفیہ سروس افریقہ پر بھی توجہ مرکوز کرے گی جہاں القاعدہ اور اس سے وابستہ تنظیمیں تیزی سے ابھر رہی ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع کے حکام کے مطابق نئی خفیہ ایجنسی اپنے معاصر امریکی سراغرساں اداروں کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹی ہوگی اور اس کے ملازمین اور جاسوسوں کی تعداد آیندہ برسوں میں بتدریج بڑھتی چلی جائے گی۔
یادرہے کہ امریکا پر 11 ستمبر 2011 ء کو ہوئے دہشت گردی کے حملوں کا یہ انٹیلی جنس تجزیہ سامنے آیا تھا کہ امریکی خفیہ اداروں میں باہمی ربط وتعلق اور ان کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے کا فقدان تھا جس کے بعد سابق امریکی صدر جارج ڈبلیوبش نے ان کی تنظیم نو کی تھی اور داخلی سکیورٹی ،دفاع ،انصاف ،سرغراسانی اور توانائی سے لے کر خارجہ محاذوں تک کام کرنے والے سولہ خفیہ اداروں کو ڈائریکٹر انٹیلی جنس کے تحت ایک ہی کمان میں دے دیا گیا تھا۔