متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں ایک برطانوی انجنئیر کو مساجد کے خلاف توہین آمیز لفظ بولنے پر جیل بھیج دیا گیا ہے اور اس کے وکیل کے مطالبہ پر عدالت میں لفظ کی وضاحت کے لیے آکسفورڈ ڈکشنری پیش کی گئی ہے۔
برطانوی انجنئیر مساجد کے ارد گرد باغات بنانے کے منصوبے کا انچارج تھا۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق اس پر الزام عاید کیا گیا کہ اس نے اپنے ایک ساتھی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''ہم ان ''ڈیم'' (ناپسندیدہ) مساجد کو کب ختم کریں گے؟''۔ (اس لفظ کا ایک معنی تھڑ دلی سے کسی تعریف ہے جو اس کی مذمت بن جائے)
اس انجنئیر کے وکیل نے اسی ہفتے عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران جج سے کہا کہ وہ لفظ 'ڈیم'' کا لغت میں معانی دیکھیں۔ اس پر عدالت میں آکسفورڈ انگلش ڈکشنری پیش کی گئی اور وہاں مترجم نے اس لفظ کا پہلا مطلب یہ بیان کیا کہ ''عیسائیت کے مطابق ایک مردود (ڈیم) شخص وہ ہے جس سے خدا ہمیشہ کے لیے ناراض ہو اور دوسرا معنی کسی کو بددعا دینا ہے۔نیز یہ لفظ غیر سرکاری انداز میں سخت تنقید کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ غصے کے اظہار کا بھی ایک کلمہ ہے''۔
متحدہ عرب امارات سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ''دی نیشنل'' کی رپورٹ کے مطابق اپیل عدالت کے جج نے برطانوی انجنئیر سے سوال کیا کہ ''آپ پر ایک اجلاس کے دوران ڈیم مساجد کا لفظ کہنے کا الزام ہے۔اب آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں''۔
اس موقع پر وکیل صفائی نے جج کوٹوک دیا اور کہا کہ ان کے موکل کے خلاف کوئی قابل اعتبار ثبوت پیش نہیں کیا گیا ،اس لیے اس مقدمے کو ختم کیا جانا چاہیے۔اس پر جج نے وکیل کو جواب دیا کہ ''ہمیں اپنے طریق کار کے مطابق چلنا ہے اور ہم مدعاعلیہ سے اس بارے میں پوچھیں گے''۔انھوں نے وکیل کو مخاطب ہوکر کہا کہ کیا آپ کو اس بات کا خدشہ لاحق ہے کہ آپ کا موکل یہاں کچھ کہہ دے گا اور اس سے ہمیں کوئی نیا ثبوت مل جائے گا جبکہ اس سے پہلے بھی عدالت میں سوال وجواب ہوچکے ہیں۔
اخبار دی نیشنل نے اس برطانوی کا نام صرف جے ایم لکھا ہے اور اس نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس نے اسلام کی توہین نہیں کی تھی بلکہ وہ اسلام کا احترام کرتا ہے۔
اس نے اپیل کی سماعت کے دوران عدالت میں کہا کہ ''میں نے یہ لفظ منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے تشویش پر کہا تھا کیونکہ میں اسے جلد سے جلد پایہ تکمیل کو پہنچانا چاہتا تھا۔واضح رہے کہ اس برطانوی کو پہلے ہی ایک فوجداری عدالت اسلام کی توہین پر ایک ماہ قید کی سزا سنا چکی ہے۔اب اپیل کورٹ تیس اپریل کو اپنے نئے فیصلے کا اعلان کرے گی۔