مصر میں سابق صدر حسنی مبارک کے دور میں اعلیٰ عہدوں پر رہنے والی شخصیات کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی کے قانون کی منظوری کے چوبیس گھنٹے بعد سابق وزیر اعظم اور صدارتی امیدوار احمد شفیق کو دوبارہ انتخابات میں حصہ لینے کا اہل قرار دیا گیا ہے۔ قبل ازیں الیکشن کمیشن نے ان پر سیاست میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی تھی۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق الیکشن کمیشن کے ترجمان ایڈووکیٹ احمد بجاتو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کمیشن نے احمد شفیق کی شکایت درست تسلیم کرتے ہوئے انہیں انتخابات کے لیے اہل قرار دیا ہے۔ اب وہ تئیس اور چوبیس مئی کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لے سکیں گے۔
احمد بجاتو کا کہنا تھا کہ سابق سیاست دانوں کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی کا قانون سپریم دستوری عدالت کو منتقل کر دیا گیا ہے۔ دستوری عدالت بھی اس مسودہ قانون کا جائزہ لے گی۔ عدالت کو فیصلے پر نظرثانی یا ترمیم کا اختیار ہو گا۔
ادھر ذرائع کے مطابق سیاست پر پابندی کے قانون کا سامنا کرنے والے امید وار احمد شفیق نے اپنی نااہلی کےخلاف قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کو شکایت کی کہ انہیں پابندی کے قانون کی منظوری سے قبل اہل قرار دیا گیا تھا۔ ایک مرتبہ اہل قرار دینے کے بعد دوبارہ کیسے نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس پر الیکشن کمیشن نے ان کا اعتراض درست قرار دیتے ہوئے انہیں الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔