پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کو توہین عدالت کیس میں قصور وار ٹہراتے ہوئے عدالت برخاست ہونے تک کی سزا دی۔ عدالت کے برخاست ہونے کے بعد وزیراعظم مسکراتے ہوئے کمرہ عدالت سے باہر نکلے۔
توہین عدالت کے مرتکب قرار دیئے جانے کے بعد وزیر اعظم نے میڈیا سے مختصر گفتگو میں کہا کہ "فیصلہ مناسب نہیں۔" انہوں نے کہا کہ انہوں نے عدالت سے انصاف مانگا تھا، امید تھی قانونی تقاضے پورے ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سزا کے خلاف اپیل کا فیصلہ قانونی ماہرین کریں گے۔
توہینِ عدالت کے کسی مقدمہ میں دی جانے والی سزاؤں میں یہ سب سے کم سزا ہے۔ توہینِ عدالت میں زیادہ سے زیادہ سزا چھے ماہ قید ہو سکتی ہے۔ عدالت کے مطابق وزیر اعظم گیلانی نے عدالتی فیصلے کا جان بوجھ کر مذاق اڑایا۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے جمعرات کو سنایا اور اس موقع پر وزیر اعظم عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
ملک کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو این آر او مقدمے میں عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر شروع کیے گئے توہینِ عدالت کے مقدمے کا سامنا تھا۔
اس سال سولہ جنوری کو سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں ’این آر او‘ عملدرآمد کیس میں وزیراعظم کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کر کے انہیں پہلی بار انیس جنوری کو خود پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔
تیرہ فروری کو سپریم کورٹ نے وزیرا عظم پر فرد جرم عائد کی تھی اور عدالت نے مزید کارروائی اٹھائیس فروری تک ملتوی کر دی تھی۔
منگل کو سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا اور جمعرات چھبیس اپریل کو فیصلہ سنانے کا اعلان کیا تھا اور وزیراعظم سے کہا تھا کہ وہ اس موقع پر عدالت میں حاضر ہوں۔ جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سات رکنی بینچ کے سامنے وزیِراعظم تیسری مرتبہ پیش ہوئے۔
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی جب عدالت پہنچے تو ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ اس موقع پر سپریم کورٹ اور اس کے اطراف سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔
گزشتہ روز سماعت کے دوران مقدمہ کے استغاثہ اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ وزیر اعظم کیخلاف ثبوت ہے نہ ہی خط لکھنے سے سوئس کیسز کھل سکتے ہیں۔ جبکہ وزیر اعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے جوابی دلائل میں کہا تھا کہ صدر وفاق کا حصہ اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں۔ ابھی سوئس حکام کو خط لکھنے پر اصرار نہ کیا جائے اور وزیر اعظم کو بری کردیا جائے۔ آج وزیر اعظم کو عدالت کی برخاستگی تک کی سزا سنائی گئی۔