منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعہ 06 جمادى الثانية 1433هـ - 27 اپریل 2012م KSA 00:53 - GMT 21:53

ہم آمریت والے عراق کے ساتھ نہیں چل سکیں گے

کردستان کے صدر مسعود بارزانی کی عراق سے علاحدگی کی دھمکی

جمعرات 05 جمادى الثانية 1433هـ - 26 اپریل 2012م
عراق کے خود مختار علاقے کردستان کے صدر مسعود بارزانی
عراق کے خود مختار علاقے کردستان کے صدر مسعود بارزانی
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

عراق کے نیم خود مختارشمالی علاقے کردستان کے صدر مسعود بارزانی نے ایک مرتبہ پھر انتباہ کیا ہے کہ بغداد کے حکام ان کے مطالبات کو پورا کریں، ورنہ وہ ستمبر میں ان کی عراق سے علاحدگی کے لیے تیار رہیں۔

انھوں نے یہ بات امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔کرد لیڈر نے مطالبہ کیا کہ شیعہ لیڈر اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ شراکت اقتدار کے فارمولے پر متفق ہوں۔

مسعود بارزانی نے پینتالیس منٹ کے اس انٹرویو میں کہا کہ ''عراق کے اتحاد اور سالمیت کو اس وقت آمریت اور مطلق العنان حکمرانی سے خطرہ ہے۔اگر عراق ایک جمہوری ریاست کی جانب پیش قدمی کرتا ہے تو پھر کوئی خطرہ نہیں ہوگا لیکن اگر یہ ایک آمرانہ ریاست بنتا ہے تو پھر ہم آمریت کے ساتھ چل نہیں سکیں گے''۔

انھوں نے ملک کی موجودہ صورت حال کو بہت ہی خطرناک قراردیا اور کہا کہ اس تعطل کو ستمبر تک دور کیا جانا چاہیے۔تب کرد علاقے سے تعلق رکھنے والے ووٹر ریفرینڈم میں عراق سے الگ آزاد ریاست کے قیام کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

کردصدر نے کہا کہ ''انھیں اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ایک آمرانہ حکومت کے تحت زندہ رہنا چاہتے ہیں یا پھر نہیں۔انھیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا اور یہ ان کا فطری حق ہوگا''۔

مسعود بارزانی اس سے پہلے بھی عراق سے کردستان کی ممکنہ علاحدگی پر انتباہ کرچکے ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ علاحدگی کی تحریک کے لیے کام کرنے سے قبل کسی مفاہمانہ سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے بات چیت کریں گے۔

وہ عراق اور نیم خودمختار علاقے کردستان کے واحد اعلیٰ عہدے دار ہیں جو وزیراعظم نوری المالکی کو اپنے سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے اور اختیارات ہتھیانے پر کھلم کھلا تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

بعض ناقدین کا کہنا ہےکہ مسعود بارزانی کے بیانات کا مقصد دراصل بغداد کی مرکزی حکومت کو اس بات پر مجبور کرنا ہے کہ وہ ان کے مطالبات کو پوراکریں جبکہ وہ حقیقی معنوں میں عراق سے علاحدگی نہیں چاہتے ہیں۔

عراق کی مرکزی حکومت اور کردوں کے درمیان تیل سے متعلق تنازعات پائے جاتے ہیں۔خاص طور پر بغداد نے ایکسن موبائل کمپنی کو عراقی کردستان میں کام کرنے کی وجہ سے ملک میں نئے منصوبے کے لیے بلیک لسٹ کردیا ہے۔عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے میڈیا مشیر علی الموساوی نے مسعود بارزانی کے اس انٹرویو پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

مسعود بارزانی نے قبل ازیں ایک اور انٹرویو میں کہا تھا: ''عراق طوائف الملوکی کی جانب گامزن ہے اور آمریت کی واپسی کی راہ ہموار کی جارہی ہے''۔انھوں نے کہا کہ ''یہ ہمارے لیے ناقابل قبول ہے کہ نوری المالکی عراق کے وزیردفاع ، انٹیلی جنس چیف اور مسلح افواج کے کمانڈر بھی ہوں''۔

انھوں نے واضح کیا کہ ''یہ کوئی بلیک میل یا دھمکی نہیں ہے۔میں اس معاملے میں سنجیدہ ہوں۔میں کردعوام کے لیے ریفرینڈم کی تجویز پیش کروں گا۔ہمیں جو بھی قیمت چکانا پڑے ،ہم عراق میں آمریت کی واپسی کو قبول نہیں کریں گے''۔ واضح رہے کہ بیشتر کرد یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر انھیں استصواب رائے کا موقع دیا گیا تو وہ عراق سے آزادی کے حق میں ووٹ دیں گے۔

کردستان کی علاقائی حکومت کو نوری المالکی کی حکومت نے عراق کی تیل کے برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن میں سے بہت تھوڑا حصہ دیا تھا حالانکہ بارزانی حکومت کردستان میں سکیورٹی کی بھی خود ذمے دار ہے۔

مسعود بارزانی نے الزام عاید کیا تھا کہ مرکزی حکومت کے ذمہ واجب الادا کرد سکیورٹی فورسز کے لیے مختص فنڈز خرد برد کر لیے گئے تھے۔ان کا بغداد کی مرکزی حکومت پر الزام ہے کہ وہ تیل کی دولت سے مالا مال شمالی شہر کرکوک کا تنازعہ طے کرنے سے انکار کررہی ہے۔ یہ شہر کرد علاقے سے باہر ہے لیکن کرد تاریخی طور پر اسے اپنا حصہ مانتے ہیں۔