غزہ: ''فلسطینی اپنے قیدیوں کی رہائی کے لیے اسرائیلیوں کو اغوا کریں''

فلسطینی قیدیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے غزہ میں ریلی

نشر في:

غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والی فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے مسلح گروپوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلیوں کو اغوا کریں تاکہ ان کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں میں قید ہزاروں فلسطینیوں کو رہائی دلائی جاسکے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس وقت اسرائیلی جیلوں میں قید دو ہزار قیدیوں نے حکام کے غیر انسانی حقوق کے خلاف غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔فلسطینی قیدیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے غزہ شہر میں ریلی نکالی گئی جس میں اسلامی جہاد اور حماس کے کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

حرکۃ الجہاد الاسلامی کے ایک سنئیر رکن خالد البطش نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمیں اسرائیلیوں کو اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا تاکہ ہم اپنے قیدیوں کوان کی جیلوں سے رہائی دلا سکیں''۔انھوں نے تمام فلسطینی دھڑوں پر زوردیا کہ ''وہ قیدی کے بدلے قیدی کی رہائی کے لیے کوشش کریں ،اسی طریقے سے قیدیوں کو رہائی دلائی جاسکتی ہے''۔

غزہ میں حماس کے وزیراعظم اسماعیل ہنئیہ نے کہا کہ فلسطین کے مسلح دھڑے اپنے قیدیوں کو کبھی نظر انداز نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ اسرائیلی قبضے کے لیے ایک پیغام تھا اور فلسطینی عوام اپنے ہیروز کی زنجیروں کو توڑنے کے لیے ہر کوشش کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت قیدیوں کےلیے ایک جنگ جاری ہے اور ہم یہ جنگ جیتیں گے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی جیلوں میں صہیونی حکام کے ناروا اور انسانیت سوز سلوک کے خلاف احتجاج کے طور پر دوہزار فلسطینی قیدیوں نے سترہ اپیل سے غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔ان سے اظہار یک جہتی کے لیے گذشتہ روز دوہزار تین سو قیدیوں نے بھی ایک دن کے لیے بھوک ہڑتال کی تھی۔

اس وقت اسرائیلی جیلوں میں چارہزار چھے سو ننانوے فلسطینی مختلف الزامات کے تحت قید ہیں اور ان میں سے تین سو انیس کو انتظامی حراستی قانون کے تحت فلسطینی علاقوں سے گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا۔

یادرہے کہ گذشتہ ماہ اسرائیلی جیل میں کسی الزام کے بغیر قید کاٹنے والی فلسطینی خاتون ھناء شلبی کو ان کی چوالیس روز تک بھوک ہڑتال کے بعد ایک مشروط معاہدے کے تحت رہا کردیا گیا تھا اور انھیں مغربی کنارے میں ان کے آبائی علاقے میں بھیجنے کے بجائے تین سال کے لیے غزہ بدر کر دیا گیا تھا۔

اسرائیل کی ایک اعلیٰ عدالت نے گذشتہ منگل کو بھوک ہڑتال کرنے والے دو فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے اپیلیں مسترد کردی تھیں۔ستائیس سالہ بلال دیاب اور چونتیس سالہ ثائرہلاہلہ نے گذشتہ ستاون روز سے کھانا پینا چھوڑ رکھا ہےجس کی وجہ سے ان کی صحت بگڑچکی ہے۔انھیں اسرائیلی حکام نے کسی الزام کے بغیر انتظامی حراستی احکامات کے تحت پابند سلاسل کررکھا ہے اوراس قانون کے تحت انھیں مزید چھے ماہ کے لیے قید رکھا جاسکتا ہے۔

ان دونوں کو ان کی خراب حالت کے پیش نظر تل ابیب کے نزدیک واقع رملے جیل کے اسپتال میں منتقل کردیا گیا تھا۔ان کے وکیل جمیل الخطیب کے بہ قول فوجی جج نے ان کی اپیلیں مسترد کردی ہیں اور کہا ہے کہ یہ دونوں اپنی خراب صحت کے خود ذمے دار ہیں۔بھوک ہڑتال کے بعد دونوں قیدیوں کا پچیس ،پچیس کلو وزن کم ہو چکا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ثائر ہلاہلہ جون دوہزار گیارہ سے اور دیاب اگست دوہزار گیارہ سے اسرائیلی جیل میں قید ہیں۔ان دونوں کا تعلق فلسطینی مزاحمتی تنظیم اسلامی جہاد سے ہے۔انھوں نے انتیس فروری کو اپنی حراست مدت میں توسیع کے خلاف احتجاج کے طور پر بھوک ہڑتال شروع کردی تھی۔