سعودی عرب نے ہفتے کے روز قاہرہ میں اپنا سفارتخانہ وقتی طور پر بند کر کے اپنے سفیر أحمد القطان کو مشورے کے لئے ریاض طلب کر لیا ہے۔ مصری سیکیورٹی اہلکاروں نے قاہرہ میں سعودی عرب کے سفارتخانے کے باہر مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر ہفتے کے روز عمارت کا محاصرہ کئے رکھا۔
ادھر مصر کی مسلح فوج کے سپریم کونسل کے سربراہ فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی نے سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کو ہفتے کے روز ٹیلی فون کیا جس میں مسٹر طنطاوی نے سعودی عرب اور عرب جمہوریہ مصر کے درمیان تاریخی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ریاض، قاہرہ سے اپنے سفیر کی واپسی اور سفارتخانے کی بندش کے فیصلے پر نظر ثانی کرے گا۔ یاد رہے کہ سعودی عرب نے مصر کے شہر اسکندریہ، سوئیز میں بھی اپنے قونصل خانے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سعودی فرمانروا نے مصری جنرل سے بات کرتے ہوئے کہ دونوں ملکوں کے مفادات کی روشنی میں ان کا ملک آئندہ چند دنوں تک اپنے اس فیصلے کا جائزہ لے گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان محبت پر مبنی تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے۔
درایں اثناء سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسامہ النقلی نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل سے وابستہ بیان کہ سعودی عرب میں سزا پانے والے مصریوں کی ملک واپسی اب تابوتوں میں ہی ہو گی۔ مسٹر اسامہ کے بہ قول اس خبر کی کوئی صداقت نہیں ہے۔