منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: ہفتہ 07 جمادى الثانية 1433هـ - 28 اپریل 2012م KSA 22:25 - GMT 19:25

سعودی وزیر خارجہ کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا

حملے کی کوشش کے بعد مصر میں سعودی سفارتخانہ بند

ہفتہ 07 جمادى الثانية 1433هـ - 28 اپریل 2012م
قاہرہ میں مصری سفارتخانے کے باہر سیکیورٹی اہلکار
قاہرہ میں مصری سفارتخانے کے باہر سیکیورٹی اہلکار
العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب نے ہفتے کے روز قاہرہ میں اپنا سفارتخانہ وقتی طور پر بند کر کے اپنے سفیر أحمد القطان کو مشورے کے لئے ریاض طلب کر لیا ہے۔ مصری سیکیورٹی اہلکاروں نے قاہرہ میں سعودی عرب کے سفارتخانے کے باہر مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر ہفتے کے روز عمارت کا محاصرہ کئے رکھا۔

ادھر مصر کی مسلح فوج کے سپریم کونسل کے سربراہ فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی نے سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کو ہفتے کے روز ٹیلی فون کیا جس میں مسٹر طنطاوی نے سعودی عرب اور عرب جمہوریہ مصر کے درمیان تاریخی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ریاض، قاہرہ سے اپنے سفیر کی واپسی اور سفارتخانے کی بندش کے فیصلے پر نظر ثانی کرے گا۔ یاد رہے کہ سعودی عرب نے مصر کے شہر اسکندریہ، سوئیز میں بھی اپنے قونصل خانے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سعودی فرمانروا نے مصری جنرل سے بات کرتے ہوئے کہ دونوں ملکوں کے مفادات کی روشنی میں ان کا ملک آئندہ چند دنوں تک اپنے اس فیصلے کا جائزہ لے گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان محبت پر مبنی تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے۔

درایں اثناء سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسامہ النقلی نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل سے وابستہ بیان کہ سعودی عرب میں سزا پانے والے مصریوں کی ملک واپسی اب تابوتوں میں ہی ہو گی۔ مسٹر اسامہ کے بہ قول اس خبر کی کوئی صداقت نہیں ہے۔