ایران اور اس کے جوہری تنازع پر مذاکرات کرنے والے ممالک پرمشتمل گروپ 1+5 نے پیش آئندہ جولائی میں بغداد میں ہونے والے مذاکرات کی کامیابی پر نظریں مرکوز کی ہیں کیونکہ انہی مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کے بعد یورپ اور امریکا ایران کے تیل پر مزید پابندیاں عائد کریں گے اور اسرائیل کی طرف سے جوہری بم بنانے سے روکنے کے لیے ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کا مظاہرہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق عراقی وزیر اعظم نوری المالکی بھی ان دنوں اسی لیے تہران پہنچے ہیں تاکہ وہ ایک طرف امریکا جیسے اپنے اتحادی کو یہ باور کرا سکیں کہ جولائی میں بغداد مذاکرات کی کامیابی کے لیے وہ ایران کو قائل کر رہے ہیں اور دوسری طرف ایران جیسے اپنے اہم پڑوسی ملک کو بچانے کی کوئی درمیانی راہ نکالی جا سکے۔
چند ماہ پیشتر ترکی میں ایران کے ایٹم بم تیار کرنے کے لیے یورنیم کی افزودگی پر ہونے والے مذاکرات کے دوران بھی امریکا اور کئی یورپی ممالک تہران کےخلاف سخت پابندیاں عائد کرنے حتی کہ عسکری قوت کے استعمال کے آپشن پر بھی متفق ہوتے دکھائی دیے تھے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور مغرب کو یہ بھی بخوبی اندازہ ہے کہ ایران خود کو ایک "مظلوم بچہ" ثابت کرانے کے لیے کسی بیرونی حملے کا خواہاں ہے کیونکہ ایرانیوں کو مکمل یقین ہے کہ اسرائیل سمیت کسی بھی دوسرے ملک نے اس کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تو یہ حملہ ناکام رہے گا اور اس کا جوہری سسٹم تاخیر کا شکار ضرور ہو گا تاہم تباہی سے محفوظ رہے گا۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ ایران کو جوہری بم تیار کرنے کے لیے مزید وقت مل جائے گا۔
اس کے علاوہ موجودہ ایرانی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو ختم کر کے انہیں ایک صف میں لا کھڑا کرے گا۔ اسرائیل کا ایران پر ممکنہ حملہ اور بھی کئی نتائج مرتب کرے گا، مثلا امریکا کی اسرائیل کے لیے امداد بڑھ جائے گی۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا بالخصوص یورپی منڈی اس سے خاص طور پر متاثر ہو گی۔
ایران سے مذاکرات کے لیے کوشاں گروپ چھے اپنی بات چیت کو اس مرکزی نقطے پر مرکوز کرنا چاہتا ہے کہ ایران فوری طور پر یورنیم افزودگی کی مقدار میں 20 فی صد کمی کر دے اور ساتھ ہی 100 کلو گرام افزدہ یورینیم ان ممالک کے حوالے کر دیا جائے۔ چونکہ ایران کو ایٹم بم کی تیاری کے لیے مزید 200 کلو گرام افزودہ حالت میں یورینیم درکار ہے۔ اگر تہران اس سال کے آخر تک یہ مطلوبہ مقدار تیار کرنے میں کامیاب ہو گیا تو وہ جوہری بم بنانے کی صلاحیت کے قریب پہنچ جائے گا۔ تاہم اگر ایران نے ایک سو کلو گرام افزودہ یوینیم ان ممالک کےحوالے کر دیا تو اس طرح ایٹم بم کی تیاری میں ایک سے دو سال کا عرصہ مزید لگ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ عالمی مذاکرات کار ایران کی یورینیم کی افزودگی کو عالمی توانائی ایجنسی"آئی اے ای اے" کی نگرانی میں کرانا چاہتے ہیں تا کہ یہ خدشہ نہ رہے کہ تہران جوہری توانائی فوجی مقاصد کے لیے حاصل کر رہا ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر براک اوباما کے ایرانی مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ کے نام مراسلے میں بھی یہی پیغام تھا جو انہوں نے ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کے ذریعے ان تک پہنچایا۔
یوری یونین کی خارجہ امور کی نگراں کیتھراین آشٹن نے بھی ایرانی حکام سے بات چیت میں اس بات پر زور دیا کہ وہ یورینیم کی افزودگی میں جلد بازی سے کام نہ لیں بلکہ عالمی مذاکرات کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے قدم بہ قدم آگے بڑھے۔ با الفاظ دیگر امریکا اور یورپ نے ایران کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کو 20 فی صد کم کرتے ہوئے افزودہ حالت میں ایک سو کلو گرام یورینیم ان کے حوالے کر دے تو اس کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکی واپس لی جائے گی بلکہ عالمی اقتصادی پابندیاں بھی نرم کر دی جائیں گی۔
عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کے دورہ ایران کو بھی ایران کے جوہری تنازع کے حل کے لیے درمیانی راہ تلاش کرنے کی عالمی مساعی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ گو کہ نوری المالکی کے دورہ ایران کے اور بھی کئی مقاصد ہیں۔ وہ بغداد میں امریکا اور یورپ کے درمیان مذاکرات کی میز بانی کا "شرف" حاصل کر کے اپنی گرتی ساکھ بھی بحال کرنا چاہتے ہیں چونکہ انہیں گرد و پیش کے کئی عرب ممالک کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ المالکی بھی دنیا کے سامنے یہ ثابت کرنے کے لیے کوشاں ہیں کہ ان کا ملک بھی علاقائی تنازعات کے حل کے لیے ایک اچھا ثالث ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ اپنے مشترکہ دوستوں کے ایک دوسرے کے ساتھ اختلافات کو دور کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
خود امریکی بھی نو سال کی تباہ کاریوں کے بعد عراق کو خطے میں اپنا مقام پیدا کرنے کا موقع دینا چاہتے ہیں، شائد یہی وجہ ہے کہ ایران کے جوہری تنازع پر مزید بات چیت کے لیے بغداد کا انتخاب کیا گیا۔ امریکیوں کا خیال ہے کہ تہران، بغداد کی رائے کو اہمیت دیتا ہے۔ یہ امکان ہے کہ وہ اور کسی کی بات تسلیم کرے یا نہ کرے کم سے کم نوری المالکی جیسے اہم دوست کی رائے کو مسترد بھی نہیں کرے گا۔
نوری المالکی کے دورہ ایران پر نگاہ رکھنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ انہیں امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے ایک خاص مہم کے تحت تہران بھیجا گیا ہے۔ وہ یہ کہ المالکی مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای سے ان کا ایک سابقہ فتویٰ دوبارہ حاصل کریں جس میں انہوں نے جوہری بم کے حصول ک "حرام" قرار دے رکھا ہے۔
مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر اگر خامنہ ای نے ایسا کوئی فتویٰ صادر کر دیا تو اس کی قیمت بھی اچھی خاصی وصول کی جائے گی اور اس کی شرائط بھی سخت ہوں گی۔ ایسی کسی بھی ڈیل کی صورت میں ایران، امریکیوں سے مطالبہ کر سکتا ہے کہ وہ خطے میں اس کے اور لببانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے کردار کو تسلیم کرے۔