منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: پیر 09 جمادى الثانية 1433هـ - 30 اپریل 2012م KSA 08:49 - GMT 05:49

بن لادن کی بیوگان کا دہشت گردی میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں

اسامہ کے اہل خانہ کو انسانی بنیادوں پر واپسی کی اجازت دی: سعودی عرب

پیر 09 جمادى الثانية 1433هـ - 30 اپریل 2012م
اسامہ کے اہل خانہ کی دوران حراست ویڈیو سے ماخوذ تصویر
اسامہ کے اہل خانہ کی دوران حراست ویڈیو سے ماخوذ تصویر
ریاض ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب نے پاکستان سے ڈی پورٹ کیے گئے اسامہ بن لادن کے اہل خانہ کے ساتھ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سلوک کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان سے ڈی پورٹ کیے جانے سے قبل انہوں نے بن لادن کی بیوگان کے بارے میں مکمل تحقیقات کی ہیں۔ ان تحقیقات کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اسامہ کی بیوائیں اور ان کے اہل خانہ کے پاکستان میں موجود افراد دہشت گردی کی کسی کارروائی میں ملوث نہیں ہیں۔ انہیں اسلام کے شرعی اصولوں اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر وطن واپس لایا گیا ہے اور ان سے سعودی شہری کی حیثیت سے سلوک کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ایک سال قبل پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی میریینز کے ایک خفیہ آپریشن کے دوران قتل کیے گئے القاعدہ کے بانی سربراہ اسامہ بن لادن کے خاندان کے خلاف بھی غیر قانونی قیام کے الزام کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا۔

حراست کے دوران کئی ماہ تک ان سے پوچھ گچھ کی جاتی رہی اور پھر اسامہ بن لادن کے اہل خانہ کی پانچ خواتین کو پاکستان میں غیر قانونی طور پر داخلے اور رہائش رکھنے کے جرم میں پینتالیس دن قید کی سزا سنائی گئی تھی اور ان کی اسلام آباد میں رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیا گیا تھا۔

پاکستان کی عدالت سے اسامہ کے خاندان کو ڈیرھ ماہ کی سزا کے بعد گذشتہ جمعرات کی شب سخت سیکیورٹی میں انہیں سعودی عرب جلا وطن کردیا گیا تھا، جہاں ریاض کے ہوائی اڈے پر سعودی حکام اور اسامہ کے خاندان کے کئی دیگر افراد ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ پاکستان سے جلاوطن کیے گئے اسامنہ کے خاندان کے ساتھ انسانی ہمدردی، ریاست کے قانون اور سعودی عرب کے شہری کی حیثیت سے سلوک کیا جائے گا کیونکہ اسامہ کی بیواؤں کا کسی غیر قانونی یا مشتبہ سرگرمی میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

اسامہ بن لادن کی دو سعودی بیوگان بیس سال کے بعد وطن واپس پہنچی ہیں جبکہ ایک یمنی نژاد بیوہ آمل السادہ کو دس سال کے بعد ایک خصوصی طیارے کے ذریعے سعودی عرب لے جایا گیا ہے۔ خاندان کے دیگر افراد میں اسامہ کے گیارہ بچے بچیاں بھی شامل تھے۔ بیوگان میں خیریہ صابر، سہام الشریف، آمل السادہ (یمنی)، افغانستان میں مارے جانے والے اسامہ کے بیٹے عبداللہ ابو الخیر کا ایک بیٹا بھی شامل ہے۔ مقتول عبداللہ کی بیوہ، بیٹے کو اسامہ کی سعودی نژاد بیوی سہام الشریف کے پاس چھوڑ کر سعودی عرب واپس چلی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق سعودی عرب پہنچنے کے بعد اسامہ کا خاندان مطمئن اور پر سکون ماحول میں زندگی گزار رہا ہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے خاندان یا بیوگان میں سے کسی کےخلاف مشتبہ سرگرمیوں کے الزامات کی تردید کے بعد وہ خود کو زیادہ محفوظ خیال کر رہے ہیں۔ جس پر اسامہ کے خاندان نے سعودی حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔