شام کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ دمشق میں واقع مرکزی بینک دولت شام کی عمارت پر خودکار راکٹوں سے حملہ کیا گیا ہے۔ دارلحکومت کے وسطی علاقے سیون سیز اسکوائر میں واقع مرکزی بینک پر حملے میں جانی نقصان نہیں ہوا بلکہ صرف مادی نقصان پہنچا ہے۔ دمشق میں ہی جمہوریت نواز کارکنوں نے بتایا ہے کہ انہوں دارلحکومت کے مختلف علاقوں سے متعدد دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی ہیں۔
شامی انقلاب کوارڈی نیشن کمیٹیوں کے مطابق اتوار کے روز ملک کے مختلف علاقوں میں سرکاری فوج کی فائرنگ کا نشانہ بننے والوں کی تعداد 29 ہو گئی تھی۔ اتوار کے روز سب سے زیادہ ہلاکتیں حمص شہر میں ہوئیں۔
دوسری جانب شام میں جنگ بندی کی نگرانی کے لئے متعین نارویجین جنرل کی آمد کے بعد اقوام متحدہ کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ بحران کے شکار ملک میں حالات معمول پر لانے کے لئے مزید مبصرین بھجوائیں جائیں۔ مبصرین کی آمد سے انقلاب کے گڑھ حمص شہر میں تیرہ مہینوں سے جاری پرتشدد واقعات میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔
نارویجین جنرل رابرٹ موڈ نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ان کا کام مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ شام میں تین سو مبصرین کی تعنیاتی پر اتفاق ہوا تھا تاہم اب تک عملا تیس اہلکار ہی پہنچ پائے ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ان کے کام میں بہتری آئے گی۔
شام پہنچنے کے بعد جنرل موڈ نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ تین سو مبصرین کی تعداد میں کم ہے تاہم یہ اہلکار اپنی موجودگی کا احساس دلائیں گے۔
میجر جنرل رابرٹ موڈ کا کہنا تھا کہ دس، تیس، تین سو یہاں تک کہ ایک ہزار غیر مسلح مبصرین بھی اس مسئلہ کو حل نہیں کر سکتے۔ کوفی عنان کے چھ نکاتی منصوبہ کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق تشدد کے خاتمہ کے لیے کوشش کریں اور اس سلسلے میں ہماری مدد کریں۔
اقوام متحدہ کا دعوی ہے کہ بشار الاسد کی حامی فوج کے ہاتھوں شام میں نو ہزار نہتے شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔