اردن:گرل فرینڈ کے قاتل کو سزائے موت کا حکم

عصمت دری کے بعد دوشیزہ کی لاش نذرآتش

نشر في:


اردن کی ایک عدالت نے ایک نوجوان کو اپنی دوست لڑکی کو عصمت دری کے بعد قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنادی ہے۔

اردن کے ایک عدالتی ذریعے نے بتایا ہے کہ عمان کی ایک فوجداری عدالت نے انیس سالہ مجرم کو گذشتہ سال مئی میں اپنی انیس سالہ گرل فرینڈ کے قتل کا قصوروار قرار دے کر پھانسی کی سزا سنائی ہے''۔

رپورٹ کے مطابق مجرم اپنی ہی ہم عمر انیس سالہ لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن اس لڑکی کے والدین نے اس کا رشتہ دینے سے انکار کردیا تھاجس کا مجرم کو رنج تھا اوراس نے اس کے ردعمل میں جرم کا ارتکاب کیا تھا۔

اس عدالتی ذریعے کے مطابق مجرم گذشتہ سال مئی میں لڑکی کوعمان کے جنوب میں واقع ایک صحرا میں لے گیا تھا جہاں اس نے اس کی عصمت دری کی اور پھر اس کو گردن ،چھاتی اور معدے پرچاقو کے پے درپے وار کرکے اسے ظالمانہ انداز میں قتل کردیا تھا۔

اس لڑکے نے اپنی دوست لڑکی کو قتل کرنے کے ایک روز بعد اس کی لاش کو جلا دیا تھا اور پھر خود تھانے میں پیش ہوکر اپنے جرم کا اقرار کرلیا تھا۔

واضح رہے کہ اردن میں قتل کی سزا موت ہے لیکن عزت کے نام پر قتل پر عدالتیں بعض اوقات سزاؤں میں کمی کر دیتی ہیں۔اردن میں ہرسال پندرہ سے بیس عورتیں عزت کے نام پر قتل کردی جاتی ہیں۔