لیبیا کے سابق مردآہن معمر قذافی کے ایک بیٹے ساعدی قذافی کو میکسیکو اسمگل کرنے کی مبینہ سازش میں ملوث کینیڈا کی ایک انجنئیرنگ فرم کے سابق ایگزیکٹو کو سوئٹزرلینڈ میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے وفاقی پراسیکیوٹر کے دفتر نے ایک بیان میں ان کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ کینیڈا کی انجنئیرنگ فرم ایس این سی لاولین گروپ کے سابق ایگزیکٹو نائب صدر ،تیونسی نژاد کینیڈین شہری ریاض بن عیسیٰ اپریل کے وسط سے ملک میں زیرحراست ہیں لیکن ان کی گرفتاری کا اتوار کو رات گئے اعلان کیا گیا ہے۔
سوئس پراسیکیوشن کی خاتون ترجمان ژاقلین بوہلمن نے ایک ای میل بیان میں بتایا ہے کہ ''اس مرحلے پر ان پر بدعنوانی ،فراڈ اور شمالی افریقہ میں کاروباری معاملات میں منی لانڈرنگ کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ان کی گرفتاری مئی سن دوہزارگیارہ میں شروع کی گئی ایک فوجداری تفتیش کی روشنی میں عمل میں آئی ہے لیکن خاتون ترجمان نے اس کیس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔
کینیڈین پولیس نے تیرہ اپریل کو مانٹریال میں ملزم ریاض بن عیسیٰ کی فرم کے ہیڈ کوارٹزرپر چھاپہ مارا تھا۔ایس این سی لاولین کی خاتون ترجمان نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کے گروپ کو بن عیسیٰ کی گرفتاری سے آگاہ کردیا گیا تھا لیکن ان کے خلاف تحقیقات کی تفصیل سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
ایس این سی لاولین نے فروری میں ریاض بن عیسیٰ کو ان کی جانب سے غیرملکی ایجنٹوں کو پانچ کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالرز کی رقم کسی نامعلوم کام کے لیے دینے کے الزام میں ملازمت سے فارغ کردیا تھا۔بن عیسیٰ نے فرم کے مالیات کے انچارج نائب صدر اسٹیفن رائے کے ساتھ مل کر دسمبر سن دوہزارنو اور جولائی دوہزار گیارہ میں دومرتبہ فرم کے کھاتے سے ایک نامعلوم منصوبے کے لیے رقوم نکلوائی تھیں۔
فرم کے حسابات کے جائزے کے مطابق بن عیسیٰ نے دو نامعلوم منصوبوں کے لیے ایجنٹوں کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری طلب کی تھی اور انھوں نے تین کروڑ پینتیس لاکھ اور دوکروڑ پچیس لاکھ ڈالرز کی رقم ایسے ٹھیکوں کے لیے وصول کی تھی جن کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔
ایس این سی لاولین نے اس اسکینڈل میں ملوث چیف ایگزیکٹو پائرے دوہیم کوبھی ملازمت سے فارغ کردیا تھا اور فرم نے کہا تھا کہ وہ پولیس سے اس اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے کہے گی۔اب اس فرم کا ایک بیان میں کہناہے کہ وہ اسکینڈل میں ملوث اپنے سابق ملازمین کے خلاف تفتیش میں پولیس کے ساتھ تعاون کررہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاض بن عیسیٰ اور رائے کی گرفتاری کا میکسیکو میں زیرحراست ایک کینیڈین خاتون کے کیس سے بھی تعلق ہے۔اس خاتون پر لیبیا میں سابق صدر معمر قذافی کے خلاف عوامی بغاوت کے عروج کے دنوں میں ان کے اڑتیس سالہ بیٹے ساعدی قذافی کو جعلی دستاویزات پر میکسیکو اسمگل کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔
ایس این سی لاولین گروپ لیبیا میں کرنل قذافی کے دور میں ایک جیل کی تعمیر سمیت اربوں ڈالرز مالیت کے منصوبوں پر کام کررہا تھا۔اس نے سن دوہزار گیارہ کے اوائل میں مبینہ سازشی خاتون سینتھیا وینئیر کی خدمات حاصل کی تھیں۔
میکسیکو کے حکام نے وینئیر اور دو میکسیکن شہریوں پر اٹھائیس جنوری کو نامعلوم افراد کی انسانی اسمگلنگ ،منظم جرائم میں ملوث ہونے اور سرکاری دستاویزات میں جعل سازی کے الزام میں فرد جرم عاید کی تھی۔