مصر اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تنازع میں شدت کے بعد اقتصادی ماہرین نے اپنے طور پر معاشی خسارے کے بڑھتے خطرات کی گھنٹیاں بھی بجانا شروع کر دی ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ قاہرہ میں سعودی سفارت خانے اور قونصل خانون کی بندش کے بعد مصر میں سعودی سرمایہ کاری کے منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں اور اس کے ساتھ سعودی عرب میں بر سر روزگار لاکھوں مصریوں کو بھی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق ماہرین اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ قاہرہ میں سعودی عرب کے سفارت خانے پر جمعہ کے روز مشتعل افراد کے حملے کی ناکام کوشش کے بعد ریاض حکومت اپنے ہاں کام کرنے والے مصری مزدوروں کی جگہ متبادل لیبر کی تلاش میں ہے۔
سعودی ماہر اقتصادیات ڈاکٹر فہد بن جمعہ نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قاہرہ۔ ریاض سفارتی تنازعے کے بعد مصر میں کم سے کم 15 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے منصوبے براہ راست یا بالواسطہ طور پر متاثر ہوں گے۔ مصر میں کساد بازاری میں اضافہ اور اندرونی اور بیرونی قرضوں کا بوجھ بڑھ جائے گا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب نے متبادل لیبر کی تلاش شروع کی تو وہاں پر کام کرنے والے بیس لاکھ مصری مزدور بھی متاثر ہوں گے۔
ڈاکٹر فہد بن جمعہ کا کہنا تھا کہ اُنہیں اس امر کی توقع نہیں کہ سعودی عرب طویل عرصے کے لیے مصری شہریوں کے ویزوں پر پابندی برقرار رکھے گا تاہم جب تک یہ پابندی برقرار رہے گی اس کے منفی اثرات مصری معیشت کو دیمک کی طرح چاٹتے رہیں گے۔ سعودی عرب کی جانب سے مصری شہریوں کے ویزوں پر جو پابندی عائد کی گئی ہے دونوں ملکوں کے عوام اس سے مایوس ہیں اور سعودی حکومت کو عوامی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔
سعودی معیشت دان کا کہنا تھا کہ مصر اور ریاض کے درمیان کشیدگی کے بعد دوسرے ممالک کے تاجر اور سرمایہ کار سعودی عرب کا رُخ کرنے لگے ہیں جو مصری شہریوں کا بدل ثابت ہو سکتے ہیں۔
سعودی عرب اور مصر کے درمیان تنازع کے معیشت پر پڑنے والے اثرات پر بات کرتے ہوئے ایک دوسرے تجزیہ نگار فضل ابو العینین نے ڈاکٹر فہد کے اس خیال کی تائید کی کہ ریاض کی طرف سے مصری شہریوں کو ویزے جاری کرنے پر پابندی مصر کی لیبر پر براہ راست اثر انداز ہو گی۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے ابو العینین کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے قاہرہ میں اپنا سفارت خانہ اور قونصل خانہ جلد ہی کھول بھی دیا تب بھی حالیہ تنازع کے "آفٹر شاکس" تا دیر محسوس کیے جاتے رہیں گے۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں سعودی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ سفارتی تنازع سے براہ راست وہ مصری شہری متاثر ہوں گے جو سعودی عرب میں کسی کفیل کے بغیر کام کر رہے ہیں چونکہ سعودی عرب میں مصری شہریوں کی تعداد دو ملین سے زیادہ ہے اور ان کی بڑی تعداد ایسی ہے جو کفیل کے بغیر مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہے۔
ماضی میں سعودی عرب کی جانب سے مصرمیں کی گئی سرمایہ کاری پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر فضل ابو العینین نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری کا بحران سابق حکومتوں کے دور میں بھی پیدا ہوتا رہا ہے۔ مصری حکومت کے بعض علاقائی اور عالمی معاہدوں میں شمولیت نے ریاض سمیت کئی دوسرے خلیجی ملکوں کو اپنے سرمایہ کاروں کو واپس لے جانے کا موقع فراہم کیا، جس سے مصری سیاحت اور لیبر دونوں شعبے متاثر ہوتے رہے۔
سفارتی تنازع کے بارے میں انہوں نے کہا کہ "مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک منظم سازش ہے جس کے تحت سعودی عرب اور مصر کو ایک دوسرے کے قریب آنے سے روکا جا رہا ہے کیونکہ کسی مصری شہری کا ریاض میں منشیات اسمگل کرتے پکڑے جانا اور اس کے ردعمل میں مصری شہریوں کا سعودی سفارت خانے پر حملے کی کوشش غیر متوقع تھے۔ اب یہ دونوں ملکوں کی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سازش کو بے نقاب کرنے کے لیے مشترکہ مساعی شروع کریں۔
خیال رہے کہ مصر میں ایک سال قبل آنے والے انقلاب کے بعد سعودی عرب اور قاہرہ کے درمیان تعلقات مستحکم ہو رہے تھے تاہم دو طرفہ تعلقات کو حال میں ایک دھچکا اس وقت لگا ہے ریاض میں ایک مصری شہری کو مبینہ طور پر منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ اس کے ردعمل میں مصری شہریوں نے قاہرہ میں سعودی سفارت خانے پر حملے کی کوشش کی۔
معاملہ آگے بڑھا اور سعودی عرب نے قاہرہ میں اپنا سفارت خانہ اور قونصل خانہ بند کرتے ہوئے مصری شہریوں کے لیے ویزوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ماہرین معیشت دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والے اس سفارتی تنازع کو اقتصادی پہلو سے سخت نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔