منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: منگل 10 جمادى الثانية 1433هـ - 01 مئی 2012م KSA 16:26 - GMT 13:26

اخوان پارٹی کی مخلوط حکومت کی تشکیل کے لیے درخواست مسترد

مصر:حکمران فوجی کونسل کا کابینہ میں ردوبدل سے انکار

منگل 10 جمادى الثانية 1433هـ - 01 مئی 2012م
قاہرہ میں احتجاجی مظاہرے کرنے والے افراد نے مخلوط قومی حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔
قاہرہ میں احتجاجی مظاہرے کرنے والے افراد نے مخلوط قومی حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔
قاہرہ۔العربیہ ڈاٹ نیٹ


مصر کی حکمران مسلح افواج کی سپریم کونسل نے آنے والے دنوں میں وزیراعظم کمال الجنزوری کی قیادت میں کابینہ کو ہٹانے سے انکار کردیا ہے اور اخوان المسلمون کی پارلیمانی پارٹی کی جانب سے مخلوط حکومت کی تشکیل کے لیے درخواست مسترد کردی ہےجس کے بعد فوج اور اسلامی جماعتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

ملک کی سب سے بڑی اسلامی جماعت اخوان المسلمون اور سلفی تحریک کے کارکنان گذشتہ ہفتے کے روز سے قاہرہ میں وزارت دفاع کے باہرفوجی کونسل کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں اور اس کے دوران ان کی مقامی لوگوں اور بعض نامعلوم افراد کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئی ہیں جن میں ایک شخص ہلاک اور ایک سو بیس زخمی ہوگئے ہیں۔وہ موجودہ کابینہ کو ہٹانے اور اس کی جگہ نئی حکومت کے قیام کا مطالبہ کررہے ہیں۔

مصر کے مقامی ترقی اور پارلیمانی امور کے وزیر محمد العطیہ نے سوموار کو ایک مقامی ٹی وی چینل الحیات سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کابینہ میں کوئی ردوبدل نہیں کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ پارلیمان کو وزیراعظم کمال الجنزوری کی حمایت واپس لینے یا ان کے کسی وزیرکو تبدیل کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

روزنامہ المصری الیوم کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر پارلیمانی عطیہ کے اس بیان سے قبل اتوار کو پارلیمان کے اسپیکر سعدالکتاتنی نے کہا تھا کہ مسلح افواج کی سپریم کونسل آیندہ اڑتالیس گھنٹے میں کابینہ میں تبدیلی کا اعلان کردے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

ایک اور مصری روزنامے الیوم الصبح نے سپریم کونسل کے ایک سنئیر رکن میجر جنرل محسن الفنجاری کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ کونسل آیندہ دنوں میں کابینہ میں تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ہے۔

جنرل محسن فنجاری نے پارلیمان کے اسپیکر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ جو کوئی بھی بیانات جاری کررہے ہیں،اس کے وہ خود ذمے دار ہیں اور جس نے پارلیمان کے اجلاس کو معطل کیا ہے ،وہ اس فیصلے کا خود ذمے دار ہے۔

پارلیمان میں اکثریت کی حامل اخوان المسلمون کا سیاسی چہرہ انصاف اور آزادی پارٹی نے حکمران مسلح افواج کی سپریم کونسل سے نئی مخلوط حکومت بنانے کی درخواست کی تھی لیکن جماعت کے عہدے داروں کے بہ قول کونسل نے یہ درخواست مسترد کردی ہے۔

اخوان المسلمون کے سنئیر رکن پارلیمان اعصام العریان نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ مسلح افواج کی سپریم کونسل کے سربراہ فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی کابینہ کی تبدیلی کے لیے سیاسی لیڈروں سے بات چیت کریں گے۔ان کے بہ قول فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی نے پارلیمان کے اسپیکر سعد الکتاتنی کو بتایا ہے کہ وہ کابینہ کی تبدیلی کے لیے مشاورت کا آغاز کریں گے۔

اس اطلاع سے چند گھنٹَے قبل مصری پارلیمان کے ایوان زیریں پیپلزاسمبلی نے حکمران فوجی کونسل کی جانب سے وزیراعظم کمال الجنزوری کی قیادت میں نگران کابینہ کی تہلیل سے انکار کے بعد احتجاج کے طور پر آیندہ اتوار تک اپنی سرگرمیاں معطل کردی تھیں۔

اسپیکر سعدالکتاتنی کے اس فیصلہ کے اعلان سے قبل اسمبلی کے براہ راست نشر ہونے والے اجلاس کے دوران ارکان پارلیمان نے وزیراعظم کمال الجنزوری اور حکمران جرنیلوں کے خلاف تقریریں کیں اور کابینہ کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔