منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: منگل 10 جمادى الثانية 1433هـ - 01 مئی 2012م KSA 18:10 - GMT 15:10

پانچ مقدونی شہریوں کے قتل میں ملوث ہونے کا شُبہ

مقدونیہ:قتل کے الزامات میں 20 راسخ العقیدہ مسلمان گرفتار

منگل 10 جمادى الثانية 1433هـ - 01 مئی 2012م
مقدونی پولیس نے 20 راسخ العقیدہ مسلمانوں کو منگل کو گرفتار کیا ہے۔
مقدونی پولیس نے 20 راسخ العقیدہ مسلمانوں کو منگل کو گرفتار کیا ہے۔
سکوپئے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ،ایجنسیاں


مقدونیہ میں پولیس نے چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران بیس راسخ العقیدہ مسلمانوں کو ایک دہشت گرد گروپ سے تعلق کے الزام میں گرفتار کرلیاہے۔اس دہشت گرد گروپ پر اپریل کے اوائل میں پانچ مقدونی شہریوں کے قتل میں ملوث ہونے کا شُبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

مقدونیہ کی وزیرداخلہ گورڈانا ژانکلوسکا نے منگل کے روز ایک نیوزکانفرنس میں بتایا کہ ''وزارت داخلہ نے سکوپئے کے نزدیک سمیلکوسکو جھیل کے کنارے پانچ افراد کے بہیمانہ قتل کی واردات میں ملوث مشتبہ ملزموں کا سراغ لگا لیا ہے''۔

انھوں نے اطلاع دی کہ ''اس واقعہ میں ملوث بیس راسخ العقیدہ مسلمانوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے،ان میں اکثریت مقدونیوں کی ہے اور وہ پاکستان اور افغانستان میں نیٹو فوجیوں کے خلاف جنگ بھی لڑ چکے ہیں''۔

وزیر داخلہ کے بہ قول ان میں سے بعض پانچ افراد کے قتل میں براہ راست ملوث ہیں۔ ان میں سے ایک کی عمر پینتالیس سال اور باقی کی عمریں اٹھارہ اور بائیس سال کے درمیان ہیں۔وزارت داخلہ ان کے خلاف دہشت گردی کے الزامات میں مقدمات قائم کرے گی۔خاتون وزیرداخلہ کے بہ قول ان کی واردات کا مقصد لوگوں میں خوف وہراس اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔

مقدونی پولیس کو دارالحکومت سکوپئے کے نزدیک واقع جھیل کے کنارے سے ان مقتولین کی لاشیں ملی تھیں اور انھیں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ان افراد کے قتل کے بعد ان خدشات کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس ملک میں ایک مرتبہ پھر مقدونی اکثریت اور البانوی نژاد مسلم اقلیت کے درمیان کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ سابق یوگوسلاویہ کی تقسیم کے بعد معرض وجود میں آنے والے اس ملک میں سن دوہزار ایک میں سرکاری سکیورٹی فورسز اور البانوی نژاد مسلمانوں میں مسلح جھڑپیں ہوئی تھیں جس کے بعد سے ان دونوں بڑی کمیونٹیوں کے درمیان تعلقات کشیدہ چلے آرہے ہیں۔