برطانوی سپرمارکیٹ کا یہودی بستیوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ،اسرائیل کی تنقید

یہودی بستیوں سے تعلق رکھنے والی چارکمپنیوں سے خریداری پر پابندی

نشر في:


اسرائیل کی وزارت خارجہ نے برطانیہ کی ایک بڑی سپر مارکیٹ کی جانب سے یہودی بستیوں سے آنے والے اشیاء کے بائیکاٹ کے فیصلہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کا اقدام پوری صہیونی ریاست کے خلاف ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان یگال پالمر نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ان (کو اپ اسٹور) کا کہنا ہے کہ وہ یہودی بستیوں کی مصنوعات کو ہدف بنا رہے ہیں لیکن درحقیقت وہ ہر اس چیز کو ہدف بنا رہے ہیں ،جواسرائیلی ہے اور یہودی بستیاں تو دراصل ایک بہانہ ہیں''۔

ترجمان کے بہ قول بائیکاٹ کی تحریک کے تحت اسرائیل کی ہرچیز کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ کو اپ برطانیہ کا پانچواں بڑا خوراک کی اشیاء کا فروخت کنندہ گروپ ہے۔اس نے گذشتہ اتوار کو اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم یہودی بستیوں میں بنی مصنوعات کے بائیکاٹ کا دائرہ کار وسیع کردیا تھا اور ان کمپنیوں سے بھی اشیاء کی خرید بند کردی تھی جو یہودی بستیوں کی تیارشدہ مصنوعات کو خرید کرکے آگے بیچ رہی تھیں۔

کواپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے تحت اسرائیل کے تمام سپلائیرز سے کاروباری تعلقات منقطع نہیں کیے جائیں گے بلکہ یہودی بستیوں سے تعلق نہ رکھنے والے بیس اسرائیلی کاروباری اداروں کے ساتھ تجارت جاری رکھی جائے گی۔

کواپ سپرمارکیٹ سن 2009ء سے اسرائیلی یہودی بستیوں سے آنے والی اشیاء کو نہیں خرید رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کے نئے فیصلے سے چار اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ تجارتی تعلقات متاثر ہوں گے۔ان کمپنیوں کے ساتھ اس کے کاروباری حجم کی مالیت ساڑھے تین لاکھ برطانوی پاؤنڈز(پانچ لاکھ ساٹھ ہزار ڈالرز) ہے۔