منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: منگل 10 جمادى الثانية 1433هـ - 01 مئی 2012م KSA 21:08 - GMT 18:08

شامی حکومت اورباغیوں پرجنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام

شامی شہروں میں ابھی بھاری ہتھیار موجود ہیں:سربراہ یواین امن مشن

منگل 10 جمادى الثانية 1433هـ - 01 مئی 2012م
دبئی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں


اقوام متحدہ کے امن مشن کے سربراہ ہرولاڈسوس کا کہنا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد نے ابھی تک شہروں میں بھاری ہتھیاروں کو موجود رکھا ہوا ہے اوران کی حکومت اور حزب مخالف دونوں نے ہی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں منگل کو ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لاڈسوس نے کہا کہ ''اس وقت چونتیس غیرمسلح فوجی مبصر شامی شہروں میں موجود ہیں۔انھوں نے شامی شہروں میں ہوزر بندوقیں ،بکتر بند گاڑیاں اور دوسرے ہتھیار دیکھے ہیں''۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ مبصرین کی شہروں میں موجودگی سے تشدد کے واقعات پر فرق ضرور پڑا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ شامی حکومت کی جانب سے ہمارے مبصرین سے یہ کہا گیا ہے کہ بکتربند گاڑیاں اسلحے کے بغیر ہیں لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ان کے بہ قول شامی حکومت اور حزب اختلاف کے گروپوں نے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے۔اس لیے شام کے تمام فریقوں کو تشدد کی تمام شکلوں کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

مسٹر لاڈسوس نے صحافیوں کو بتایا کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے صرف ایک سو پچاس مبصرین کو شام میں تعینات کرنے کی پیش کش کی ہے جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے وہاں تین سو مبصرین کو بھیجنے کی منظوری دی تھی۔انھوں نے یہ بھی بتایا کہ شام نے تین مجوزہ مبصرین کو ویزا دینے سے انکار کردیا ہے۔

شامی حکومت نے گذشتہ ہفتے کے روز عالمی ایلچی کوفی عنان کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا تھا کہ ان سے کیے گئے وعدے کے مطابق شہروں سے فوجیوں اور ہتھیاروں کو ہٹا لیا گیا ہےلیکن کوفی عنان کے ترجمان احمد فوزی نے ایک بیان میں اس کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ شامی حکومت نے جنگ بندی معاہدے کے مطابق شہروں سے ابھی تک بھاری ہتھیاروں کو نہیں ہٹایا اور اقوام متحدہ کے مبصرین کی موجودگی میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک اور ایلچی کا کہنا ہے کہ شام میں بارہ اپریل سے جاری جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے مبصرین کی تعیناتی کے بعد سے چونتیس بچے بھی تشدد کے واقعات میں مارے جاچکے ہیں۔اس ایلچی نے بھی شام کے تمام فریقوں پر تشدد کا سلسلہ ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

شام میں گذشتہ سال مارچ کے وسط سے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران تشدد کے واقعات میں نوہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق گذشتہ ایک سال اور ڈیڑھ ماہ کے دوران گیارہ ہزار سے زیادہ شامی مارے جاچکے ہیں۔ ان میں دوہزار چھے سو سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جو باغیوں کے ساتھ جھڑپوں یا ان کے حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔