عراق میں دہشت گردوں کی مدد کے الزام میں مطلوب نائب صدر طارق ہاشمی کے خلاف کل جمعرات سے باضابطہ طور پر عدالتی کارروائی شروع کی جا رہی ہے۔ طارق ہاشمی کا ٹرائل ایک ایسے وقت میں شروع کیا ہے جب دستور کے تحت انہیں پالیمانی تحفظ بھی حاصل ہے۔ پارلیمنٹ نے انہیں اس اہم عہدے سے ہٹانے کے لیے بھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق عراقی جوڈیشل کونسل کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نائب صدر طارق الھاشمی اور ان کے سیکیورٹی عملے کےخلاف تین مقدمات کو یکجا کر کے ایک مقدمہ بنائے جانے کے بعد ٹرائل شروع کیا جائے گا۔ ان کے خلاف نیشنل سیکیورٹی کے ڈائریکٹر جنرل اور وزارت داخلہ کے سیکیورٹی حکام پر قاتلانہ حملوں کے لیے دہشت گردوں کو مدد فراہم کرنے کے الزامات ہیں۔
خیال رہے کہ نائب صدر طارق الھاشمی کے خلاف ٹرائل ایسے انداز میں شروع کیا جا رہا ہے جب انہیں دستور کے تحت مکمل پارلیمانی تحفظ حاصل ہے۔ پارلیمنٹ نے انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے کسی بل پر کوئی رائےشماری بھی نہیں کی۔
دوسری جانب عراقی اپوزیشن نے طارق ہاشمی کے ٹرائل کو عدالتی کے بجائے "سیاسی" قرار دیا ہے۔ العراقیہ اتحاد کے ایک رکن پارلیمنٹ حامد المطلق نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ "سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "جب تک طارق ہاشمی پارلیمنٹ کےرُکن ہیں ان کےخلاف دستور کسی قسم کے مقدمہ بازی کی اجازت نہیں دیتا۔ پارلیمانی تحفظ حاصل ہونے کے باوجود ان کا ٹرائل صاف بتاتا ہے کہ یہ عدالتی نہیں بلکہ سیاسی مقدمہ ہے۔
ان کا اشارہ اس جانب تھا کہ طارق الھاشمی کا تعلق اہل سنت والجماعت سے ہے اور العراقیہ اتحاد کے ایک اہم رہ نما ہیں جن کی سربراہی سابق وزیر اعظم ایاد علاوی کر رہے ہیں۔