مصر میں سلفی مسلک کے ایک سرکردہ مذہبی رہنُما شیخ محمد عبدالمقصود نے اپنے مسلک کے سیاسی نظریات کے بارے میں میڈیا میں پائے جانے والی آراء پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بات قطعی طور پر غلط ہے کہ مصر کے سلفی مسلک کے لوگ صدارتی امیدوار ڈاکٹر عبدالمنعم ابو الفتوح کو انتخابات میں سپورٹ کریں گے۔ قاہرہ میں سلفی مسلک کی اکثریت اخوان المسلمون کے صدارتی امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی کی حامی ہے اور ان کی انتخابی مُہم چلا رہی ہے۔
قاہرہ سے تعلق رکھنے والے سلفی لیڈر نے ان خیالات کا اظہار معروف صحافی عمرو ادیب کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں کیا۔ شیخ عبدالمقصود نے کہا کہ سلفی مسلک کے کئی دھڑے ہیں۔ ان میں بعض بلا شبہ ابوالفتوح کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہی میں اسکندریہ کے شیخ یاسر برھامی کی سربراہی میں سلفی گروپ بھی ڈاکٹر الفتوح کا حامی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قاہرہ کے سلفیوں نے ڈاکٹر موسیٰ مرسی کے خیالات سے آگاہی کے لیے ان سے تیس سوالات پوچھے۔ انہوں نے ان تیس سوالات کے جو جوابات دیے وہ ڈاکٹر عبدالمنعم ابو الفتوح کے جوابات سے زیادہ ہمارے مسلک سے قربت رکھتے تھے۔ اس لیے ہم نے اُنہیں اپنا صدارتی امیدوار قرار دیا ہے۔ یہی سوالات ہم نے اخوان المسلمون کے الیکشن سے برخاست کیے گئے امیدوار خیرت الشاطر سے بھی کیے تھے۔ انہوں نے ہمیں اس کا مثبت جواب دیا تھا۔
شیخ عبدالمقصود نے فوج کی جانب سے صدارتی امیدوار کی حمایت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ عسکری کونسل عبدالمنعم ابو الفتوح کی حامی ہے۔ فوج کی حمایت کے لیے بطور ثبوت انہوں نے اسکندریہ میں سلفی لیڈر شیخ یاسر برھامی اور لیفٹیننٹ جنرل سامی عنان کے درمیان ملاقات کا حوالہ دیا۔
اخوان المسلمون کے سابق امیدوار خیرت الشاطر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ان کے صدارتی امیدوار نامزد کیے جانے کے بعد ان سے کئی ملاقاتیں کیں۔ ہم نے دیگر تمام صدارتی امیدواروں میں انہیں نسبتاً بہتر پایا۔ ہم نے ان سے چھے الگ الگ مکالموں میں تیس سوالات کیے۔ انہوں نے ہمیں تسلی بخش جوابات دیے۔ جس کے بعد ہم نے ان کی حمایت کا فیصلہ کیا تھا۔
سلفیوں کے درمیان پائے جانے والی دھڑے بندی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ قاہرہ اور اسکندریہ کے سلفیوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ اسکندریہ کے سلفی سمع واطاعت کے پابند ہیں جبکہ قاہرہ میں ہم نے بعض امورمیں سلفی مسلک کے حامیوں کو آزادی دے رکھی ہے۔
شیخ عبدالمقصود کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے مسلک کے لوگوں کی جانب سے یہ الزام بھی سہنا پڑا ہے کہ قاہرہ کے سلفی اخوان المسلمون کے ہاتھوں فروخت ہو چکے ہیں اور پیسے کے بدلے میں اخوان المسلمون کے امیدوار کو ووٹ دے رہے ہیں۔
مصری صحافی سے گفتگوکرتے ہوئے سلفی عالم دین شیخ محمد عبدالمقصود نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ اخوان المسلمون کے صدارتی امیدوارڈاکٹرمحمد مرسی انتخابات جیت جائیں گے۔ شیخ مقصود نے ڈاکٹرمرسی کی ذاتی زندگی اوران کی نیک نامی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اور دعوتی میدان میں ڈاکٹرمحمد مرسی اپنی ایک خاص پہچان رکھتے ہیں۔ سنہ 2000ء سے 2005ء کے دوران جب وہ مصری پارلیمنٹ کے رکن تھے توانہیں بہترین پارلیمنٹیرین کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔ یہ ان کی حسن سیاست کا ایک مستند سرٹیفکیٹ قراردیا جاتا ہے۔
صرف دعوت کے میدان ہی میں نہیں بلکہ سائنس کے میدان میں بھی ڈاکٹر مرسی کی تحقیقات عالمی سطح پرمانی جاتی ہیں۔ انہوں امریکا کے خلائی تحقیقاتی ادارے"ناسا" کے لیے 23 کے قریب تحقیقی مقالے تحریرکیے۔ اس کے باجود جب قاہرہ کے سلفیوں نے ڈاکٹرمحمد مرسی کی حمایت کا فیصلہ کیا تو یہ فیصلہ ان کی ذات کو دیکھ کر نہیں کیا بلکہ اخوان المسلمون کی خدمات کو دیکھ کر کیا۔ کیونکہ قوم کی بیداری میں اخوان المسلمون کے کردارکو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
قاہرہ کے سلفی رہنما شیخ محمد عبدالمقصود نے اخوان المسلمون کے ایک منحرف سیاسی لیڈر اور صدارتی امیدوار ڈاکٹر عبدالمنعم ابو الفتوح کی سیاسی قلا بازیوں پر تنقید کی۔
انہوں نے ڈاکٹر ابو الفتوح جب صوفیوں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے میں دل جان سے تمہارے ساتھ ہوں۔ جب سیکولر لوگوں سے ملتے ہیں تو انہیں اپنی حمایت کا یقین دلاتے ہیں اورجب سلفیوں کے پاس آتے ہیں تو ان کے سامنے سلفی بن جاتے ہیں۔ ان کےسیاسی اور دینی نظریات ہماری سمجھ سے بالا تر ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ اسکندریہ کے سلفی ان کی حمایت کیوں کر رہے ہیں۔