مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں وزارت دفاع کے نزدیک مظاہرین اور نامعلوم مسلح حملہ آوروں کے درمیان جھڑپوں میں بیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد صورت حال پر قابو پانے کے لیے فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔
العربیہ ٹی وی کے مطابق قاہرہ کے وسط میں واقع عباسیہ کے علاقے میں مظاہرین اور پولیس میں لڑائی ختم کرانے کے لیے فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ سلفی تحریک کے کارکنان گذشتہ پانچ روز سے قاہرہ میں وزارت دفاع کے باہر فوجی کونسل کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔اس دوران ان کی مقامی لوگوں اور بعض نامعلوم افراد کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں ہفتے کے روز ایک شخص ہلاک اور ایک سو بیس زخمی ہوگئے تھے۔
نامعلوم حملہ آوروں نے وزارت دفاع کے باہر نااہل قرار پائے سلفی صدارتی امیدوار حازم صالح ابو اسماعیل کے حامیوں پر اچانک دھاوا بول دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں نے مظاہرین پر سیمنٹ بموں ،پتھروں اور آنسو گیس کے کنستروں سے حملہ کردیا۔مظاہرین نے جوابی پتھراؤ کرکے اپنا بچاؤ کرنے کی کوشش کی لیکن ان میں سے متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ ایک مصری روزنامے الیوم الصبح کی اطلاع کے مطابق شاہراہ خلیفہ المامون میں قائم ایک فیلڈ اسپتال میں بیسیوں زخمیوں کو لایا گیا ہے۔
قاہرہ میں پُرتشدد واقعات میں بیس افراد کی ہلاکت کے بعد آزاد صدارتی امیدوار عبدالمنعم ابوالفتوح نے اپنی بدھ کی مہم منسوخ کر دی ہے۔ان کے حریف اخوان المسلمون کے امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی نے بھی مظاہرین کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہوئے آیندہ اڑتالیس گھنٹے کے لیے اپنی انتخابی مہم موخر کر دی ہے۔
قبل ازیں مسلح افواج کی سپریم کونسل نے قاہرہ میں جھڑپوں اور ان میں ہلاکتوں سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کے لیے سیاسی جماعتوں اور ارکان پارلیمان کا ایک اجلاس طلب کیا تھا لیکن اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ آزادی اور انصاف پارٹی نے قاہرہ میں جھڑپوں کے بعد اس اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔
سلفی تحریک کے کارکنان اپنے صدارتی امیدوار حازم ابو اسماعیل کی نااہلی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔حازم ابو اسماعیل کو مصر کے الیکشن کمیشن نے چودہ اپریل کو ان کی مرحومہ والدہ کی غیرملکی شہریت ثابت ہونے کے بعد نااہل قرار دے دیا تھا لیکن ان کے بہت سے حامیوں کو یقین ہے کہ انھیں حکام نے ایک سازش کے تحت نااہل قرار دلوایا ہے۔
ان کے علاوہ سابق نائب صدر اور سابق انٹیلی جنس چیف عمر سلیمان اور ملک کی بڑی جماعت اخوان المسلمون کے نامزد امیدوار خیرت الشاطر کو بھی مختلف وجوہات کی بنا پر نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ ان سرکردہ صدارتی امیدواروں کی نااہلی کے بعد مصر کی سیاست ایک نیا رُخ اختیار کرگئی ہے اور ایک مرتبہ پھر حکمران مسلح افواج کی سپریم کونسل کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور اس سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔