ایران میں افغان سفارت کاروں کی خفیہ نگرانی، عملہ پریشان

سفارتی عملے کو بد سلوکی اور نامناسب رویے کا سامنا

نشر في:


ایران میں تعینات افغانستان کے سفارت کاروں کے ایک ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ پچھلے کچھ ایام سے ایرانی انٹیلی جنس اورسیکیورٹی حکام افغان سفارت کاروں کی نگرانی کررہے ہیں۔ تاہم ذرائع نے نگرانی کی وجہ بیان نہیں کی البتہ یہ شکایت کابل میں افغان حکام تک پہنچائی گئی ہے۔

تہران میں افغان سفارت خانے کےایک اہلکارنے"العربیہ" ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "کچھ دنوں سے ایرانی انٹیلی جنس اورسیکیورٹی حکام کی جانب سے ہمارے سفارت کاروں کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے۔ کئی سفارت کاروں کے ساتھ کی گئی بدسلوکی کے باعث ان کی نفسیاتی حالت بگڑ گئی ہے، لیکن وہ اس کے باوجود تہران کے سیکیورٹی اہلکاروں کے نا مناسب رویے کا سامنا کر رہے ہیں"۔

افغان سفارت کارکا کہنا تھا ایرانی حکام نے ان کے ساتھ بدسلوکی ختم نہ کی تو کابل میں تعینات ایرانی سفارت کاروں کو بھی اسی طرح کے رویے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اب تک افغان حکومت ایرانی سفارت کاروں کو مکمل عزت اور تحفظ فراہم کرتی آئی ہے۔ تہران کا روز بروز بڑھتا نا پسندیدہ طرزعمل اسی طرح کے رد عمل پر منتج ہوگا"۔

ادھرکابل میں افغان وزارت خارجہ کے ایک ذیعے نے شناخت پوشیدہ رکھنے کی شرط پر"العربیہ" کو بتایا کہ تہران میں ان کے سفارت کاروں کی مسلسل نگرانی رکھی جا رہی ہے۔ ایرانی سیکیورٹی حکام افغانستان کے شہریوں اورایرانی عملے کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو سفارت خانے میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

قبل ازیں افغانستان کے محکمہ خارجہ کی جانب سے بھی بتایا گیا تھا کہ تہران میں اس کے سفارت کاروں کو نا مناسب رویے کا سامنا ہے، اس سلسلے میں تہران حکومت کو باضابطہ طور پر آگاہ کردیا گیا ہے۔

افغان وزارت خارجہ کے ترجمان "فرامرز تمنا" نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران میں ان کے سفارت کاروں کے ساتھ ایرانی سیکیورٹی حکام ایسا طرزعمل اختیارکررہے ہیں جسے پسندیدہ قرارنہیں دیا جاسکتا۔ حکام کی بدسلوکی کے باعث سفارتی حالات بتدریج پیچھے کی طرف جا رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں یہ تو معلوم نہیں کہ آیا ایرانی سیکیورٹی حکام کا رویہ اس قدر تلخ کیوں ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں افغان حکومت نے اپنے طور پراسباب جاننے کے لیے تحقیقات شروع کی ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ایران افغانستان حکومت کو اس بارے میں آگاہ کرے، تاہم ایرانی حکام سے رابطوں کے باوجود کوئی مثبت جواب سامنے نہیں آیا ہے۔

ایران میں افغان سفارت کاروں کے ساتھ بدسلوکی خبریں تو ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں کا موضوع ہیں۔ میڈیا کے استفسار کے باوجود نہ تو افغان حکام اس کے بارے میں کوئی بات کرتے ہیں اورنہی ایران کی طرف سے اس کا کوئی ٹھوس سبب بیان کیا گیا ہے۔