اردن کے وزیراعظم فايزالطراونة کی قیادت میں تیس رکنی نئی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے۔
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے عمان میں منعقدہ تقریب میں فايزالطراونة اور ان کی کابینہ کے ارکان سے حلف لیا۔اس کابینہ میں ایک خاتون سمیت بیس نئے چہرے شامل کیے گئے ہیں۔سابق رکن پارلیمان غالب زوبی کو اردن کا نیا وزیرداخلہ بنایا گیا ہے اور نادیہ ہاشم کو خواتین کی امور کی وزیر مملکت مقرر کیا گیا ہے۔
سبکدوش کے کابینہ کے وزیرخارجہ ناصرجودۃ کو ان کے عہدے پر برقرار رکھا گیا ہے۔سنئیر صحافی سمیع معیطہ کو وزارت اطلاعات اور ماہراقتصادیات سلیمان حافظ کو وزارت خزانہ کا قلم دان سونپا گیا ہے۔
شاہ عبداللہ دوم نے گذشتہ جمعرات کو سابق وزیراعظم عون الخصاونة کا استعفیٰ منظور کرنے کے بعد فايزالطراونة کو وزیراعظم نامزد کرکے حکومت بنانے کی دعوت دی تھی۔ عون الخصاونة اچانک اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔
شاہِ اردن نے فايزالطراونة کو اس سال کے آخر میں پارلیمانی انتخابات کے انعقاد تک عبوری دور کے لیے حکومت بنانے کی ہدایت کی تھی تاکہ وہ انتخابات کے ضمن میں درکار اصلاحات کو عملی جامہ پہنا سکیں۔شاہ عبداللہ نے گذشتہ جمعرات کو سبکدوش وزیراعظم کے نام ایک خط میں لکھا تھا کہ ''وہ اصلاحات کے نفاذ کے لیے سست روی سے کام کر رہے تھےلیکن اردن مطلوبہ اصلاحات کے لیے مزید کسی تاخیرکا متحمل نہیں ہوسکتا تھا''۔
عالمی عدالت انصاف کے سابق جج عون الخصاونة قریباً چھے ماہ برسراقتدار رہے تھے۔انھوں نے گذشتہ سال اکتوبر میں نئی حکومت بنائی تھی اور دسمبر میں پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا تھا۔ اس موقع پر انھوں نے ملک میں اصلاحات کا عمل جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
عون الخصاونة نے اپنے مختصر دور حکومت میں بعض سیاسی اور اقتصادی اصلاحات متعارف کرائی تھیں لیکن انھیں ان کے متعارف کردہ مجوزہ انتخابی قانون پر قبائلی ارکان پارلیمان اور طاقتور انٹیلی جنس سروسز کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔مخالفین کے خیال میں مجوزہ قانون میں اسلامی جماعتوں سے وابستہ سیاست دانوں کی طرف داری کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ دوسرے عرب ممالک کی طرح اردن میں بھی گذشتہ سال جنوری سے سیاسی اصلاحات کے حق میں وقفے وقفے سے مظاہرے کیے جاتے رہے ہیں۔حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمان ،سیاسی جماعتیں اورسول سوسائٹی کے نمائندے ملک میں حقیقی آئینی اصلاحات کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔
شاہ عبداللہ دوم نے اگست دوہزار گیارہ میں عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد آئین میں ترامیم کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ شاہی کمیٹی کی تجویز کردہ سفارشات کے تحت آیندہ پارلیمانی انتخابات کی نگرانی کے لیے ایک آزاد کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔آئینی ترامیم کے تحت پارلیمان کی رکنیت کے لیے امیدوارکی حدعمر پینتیس سال سے کم کرکے پچیس سال کردی گئی تھی اور فوجی اسٹیٹ سکیورٹی عدالت کا دائرہ کار بھی محدود کردیا گیا تھا اوراس کو صرف بغاوت ،جاسوسی اور دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی سماعت تک محدود کر دیا گیا تھا۔