شام کے دارالحکومت دمشق میں سرکاری سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے پانچ مظاہرین ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ دوسرے بڑے شہر حلب میں باغیوں کے ایک مبینہ حملے میں ایک اعلیٰ افسر سمیت پندرہ فوجی مارے گئے ہیں۔
شامی فورسز نے دارالحکومت دمشق کے علاقے التدمون میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے والے افراد پر فائرنگ کی ہے۔مقامی رابطہ کمیٹیوں کی اطلاع کے مطابق ایک اور قصبے جسر الشغور اور اس کے نواحی دیہات میں بھی گولہ باری کی گئی ہے جس سے متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔
العربیہ نے شام کی مقامی رابط کمیٹیوں کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ملک میں منگل کو تشدد کے واقعات میں پینتالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اقوام متحدہ کے مبصرین کی موجودگی کے باوجود شام کے مختلف شہروں میں سرکاری سکیورٹی فورسز اور مسلح باغی جنگجوؤں کی تشدد آمیز کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع صوبہ ادلب اوراس کے قصبے الریحہ سے شدید فائرنگ کی اطلاعات ملی ہیں۔شامی فوجیوں نے صوبہ حلب کے ایک قصبے التراب میں رات کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے بھاری ہتھیار استعمال کیے ہیں۔
دمشق کے نواح میں واقع قصبے الدوما میں شامی فوجیوں نے گھر گھر کریک ڈاؤن کی کارروائیوں کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔جنوبی شہر درعا میں ہزاروں افراد نے صدر بشارالاسد کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔حماہ میں بھی شامی شہریوں نے صدر اسد کے خلاف مظاہرہ کیا اور ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔انھوں نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ انھیں شامی سکیورٹی فورسز کی چیرہ دستیوں کے مقابلے میں تحفظ مہیا کیا جائے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے امن مشن کے سربراہ ہرولاڈسوس نے گذشتہ روز کہا تھا شامی صدر بشارالاسد نے ابھی تک شہروں میں بھاری ہتھیاروں کو موجود رکھا ہوا ہے اوران کی حکومت اور حزب مخالف دونوں نے ہی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ مبصرین کی شہروں میں موجودگی سے تشدد کے واقعات پر فرق ضرور پڑا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ شامی حکومت کی جانب سے ہمارے مبصرین سے یہ کہا گیا ہے کہ بکتربند گاڑیاں اسلحے کے بغیر ہیں لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ مسٹرلاڈسوس نے صحافیوں کو یہ بھی بتایا کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے صرف ایک سو پچاس مبصرین کو شام میں تعینات کرنے کی پیش کش کی ہے جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے وہاں تین سو مبصرین کو بھیجنے کی منظوری دی تھی۔انھوں نے یہ بھی بتایا کہ شام نے تین مجوزہ مبصرین کو ویزا دینے سے انکار کردیا ہے۔
دوسری جانب شام کی وزارت خارجہ کے ترجمان جہاد مقدسی نے اس اطلاع کی تردید کی ہے کہ اقوام متحدہ کے بعض مبصرین کوویزے دینے سے انکار کیا گیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ فریقین نے پہلے اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ شام میں کون کون مبصر جنگ بندی کی نگرانی کا کام کرسکتا ہے۔اس لیے کسی کو ویزا دینے سے انکار نہیں کیا گیا اور ایک سو دس ممالک سے تعلق رکھنے والے مبصرین شام میں کام کرسکتے ہیں۔
درایں اثناء النصرت محاذ نامی گروپ نے شامی دارالحکومت دمشق میں بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے ایک کارکن نے دھماکا خیز مواد کو گاڑی سے ٹکرایا تھا اور مرجح چوک میں واقع ثقافتی مرکز کے باہر دھماکا کیا تھا۔