لیبیا میں کرنل قذافی کے قتل کے بعد حکمراں قومی عبوری کونسل"این ٹی سی" ان دنوں ملکی سیاست کے لیے آئین میں ترامیم میں مصروف ہے۔
آئین میں ترمیم کے بعد کرنل قذافی کی باقیات اور سابق حکمرانوں کی "بزرگی" ختم کرتے ہوئے ان کی سیاست میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اسی طرح کرنل قذافی کے دور میں دینی سیاسی جماعتوں کے قیام پرعائد پابندی کا ظالمانہ قانون بھی ختم کرتے ہوئے مذہب کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کی تشکیل کی اجازت دے دی گئی ہے۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق "این ٹی سی" کی جانب سےحال ہی میں منظور شدہ ایک مسودہ قانون میں قرار دیا گیا ہے کہ جو شخص کرنل قذافی، ان کے فرزندان، خاندان کے دیگر افراد یا ان کی حکومت میں شامل سابق عہدیداروں کی تعریف کرے گا یا انہیں سیاست کے اہل قرار دینے کی بات کرے گا اسے جیل جانا پڑے گا۔
مسودہ قانون میں پوری وضاحت کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ کرنل قذافی کی باقیات قابل نفرت ہیں اور جو شخص سابق حکمرانوں کی تعریف وتوصیف کرے گا اسے عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب عبوری کونسل" این ٹی سی" نے ملک میں دینی سیاسی جماعتوں کے قیام پر عائد آئینی پابندی ختم کرتے ہوئے دینی جماعتوں کے قیام کی اجازت دے دی ہے۔ اس کےعلاوہ قبائل کی سطح پر بھی سیاسی جماعتیں تشکیل دی جا سکیں گی۔
بدھ کو طرابلس میں میڈیا کی موجودگی میں ایک تقریب میں ترمیم شدہ آئین کی بعض دفعات کو پڑھ کر سنایا گیا۔ ایک ہفتہ قبل "این ٹی سی" نے اعلان کیا تھا کہ وہ ملک میں مذہبی بنیاد پر سیاسی گروہ تشکیل دینے کی اجازت نہ دینے کے قانون کی منظوری پر غور کر رہے ہیں تاہم کل کے اجلاس میں اس طرح کسی پابندی کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا۔ قبل ازیں چوبیس اپریل کو "این ٹی سی" کے ترجمان نے کونسل کے کئی اراکین کے ہمراہ یہ اعلان کیا تھا کہ ترمیم شدہ آئین میں یہ شق شامل کی گئی ہے کہ ملک میں قبائل، مذہب، رنگ یا نسل کی بنیاد پر کسی کو سیاسی جماعت قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
خیال رہے کہ لیبیا میں سنہ 1964ء کے بعد سے اب تک فرد واحد (مقتول کرنل قذافی) کی حکومت رہی۔ اپنے اس چار عشروں پر محیط دور حکومت میں کرنل معمر قذافی نے کسی دوسرے گروہ کو سیاسی طور پر منظم ہونے کا نہ تو موقع دیا اور نہ ہی اس کے لیے آئین میں کوئی گنجائش رکھی تھی۔ انہوں نے مذہب کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کے قیام پر سختی سے پابندی عائد کر رکھی تھی۔