منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعرات 12 جمادى الثانية 1433هـ - 03 مئی 2012م KSA 06:53 - GMT 03:53

سعودی عرب اپنا سفیر چند ایام میں قاہرہ بھیجنے پر تیار!!

سفارتی بحران کے حل پر بات چیت کے لیے مصری پارلیمانی وفد کی ریاض آمد

جمعرات 12 جمادى الثانية 1433هـ - 03 مئی 2012م
سعد الکتانی
سعد الکتانی
العربیہ ڈاٹ نیٹ

مصر اور سعودی عرب کے درمیان ایک ہفتہ پیشتر پیدا ہونے والے سفارتی تنازع کے حل کے سلسلے میں مصر نے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ بحران کے حل کے لیے مصری پیپلز اسمبلی کے اسپیکر ڈاکٹر سعد الکتاتنی اور مجلس شوریٰ کے چئیرمین احمد فہمی کی سربراہی میں اعلی اختیاراتی پارلیمانی وفد آج سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچ رہا ہے۔

مصری اراکین پارلیمان سعودی عرب میں منشیات اسمگلنگ کیس میں زیرحراست وکیل کی رہائی اور سعودی سفیر کی قاہرہ واپسی پر بات چیت کرے گا۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ " کے مطابق اخوان المسلمون کے سیاسی ونگ " جسٹس اینڈ فریڈم" کے ایک رکن محمد البلتاجی نے بتایا کہ "پارلیمانی وفد آج سعودی عرب پہنچے گا جہاں وہ خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے بھی ملاقات کرے گا۔ اس کے علاوہ ان کی ملاقات سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل اور دیگر عہدیداروں سے بھی ہو گی جس میں وہ دونوں ملکوں کے درمیان پائے جانے سفارتی بحران کے حل کے بات چیت کریں گے۔

ادھر ایک دوسری پیش رفت میں مصر کی خاتون وزیر برائے عالمی تعاون و منصوبہ بندی فائزہ ابو النجاء نے قاہرہ ۔ ریاض سفارتی تعلقات کی بحالی کی خوشخبری سنائی ہے۔ قاہرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتےہوئے مسز فائزہ کا کہنا تھا کہ ان کے سعودی عرب کے اعلٰی حکام سے رابطے ہوئے ہیں۔ ان رابطوں کے بعد سعودی عرب، قاہرہ سے بلائے گئے اپنے سفیر کو دوبارہ مصر بھیجنے کے لیے آمادہ ہو گیا ہے۔

مصری وزیر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے مصر کے لیے مالی امداد کے پیکج میں کسی قسم کی کمی نہیں کی گئی۔ ریاض حکومت مصرکے لیے اعلان کردہ امداد اور سرمایہ کاری جاری رکھے گی۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر برائے منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ حالیہ ہفتوں میں مصر اور سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری کی ایک بڑی ڈیل طے پائی ہے۔ سعودی عرب مصر کے مرکزی بنک کو ایک ارب ڈالرز کی رقم فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ سعودی حکومت مصر کے مرکزی بنک سے سرکاری بونڈز خرید کرے گا۔

خیال رہے کہ مصر اور سعودی عرب کے درمیان گذشتہ ایک ہفتے سے سفارتی تعلقات کشیدہ ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اس وقت سامنے آئی جب سعودی حکام نے مصر کے ایک انقلابی وکیل کو منشیات کی اسمگلنگ کےالزام میں حراست میں لینے کے بعد اسے کوڑوں کی سزا سنائی۔ اس کے ردعمل میں مصر میں مشتعل افراد نے سعودی سفارت خانے پر حملے کی کوشش کی تو ریاض نے قاہرہ سےاپنا سفیر واپس بلا لیا تھا۔